Pakistan
پاکستان ملائیشیا اقتصادی تعاون تجارت اور سکیورٹی تعلقات
پاکستان اور ملائیشیا نے تجارت، سکیورٹی اور ڈیجیٹل شناخت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کا تہیہ کیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسلام آباد: پاکستان اور ملائیشیا نے دوطرفہ تعلقات بالخصوص اقتصادی تعاون، تجارت اور سکیورٹی کے شعبوں میں باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اعلیٰ سطحی رابطوں اور دوروں نے دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھول دیے ہیں، جن کا مقصد خطے میں خوشحالی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملائیشیا کے ساتھ دیرینہ اور تاریخی تعلقات کو تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے میدانوں تک پھیلایا جائے گا۔
اسی سلسلے میں ملائیشیا کے وزیرِ داخلہ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔ انہوں نے نادرا کے جدید ڈیجیٹل شناخت کے نظام اور سکیورٹی ڈھانچے کی بھرپور تعریف کی اور پاکستان کی اس تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان ڈیجیٹل گورننس اور ڈیٹا مینجمنٹ کے شعبوں میں تجربات کے تبادلے پر بھی غور کیا گیا تاکہ انتظامی امور کو مزید مربوط بنایا جا سکے۔
دریں اثنا، پاکستانی پارلیمانی اور سیاسی قیادت نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ایوانِ بالا کے رہنماؤں نے اپنے بیانات میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ پاکستان اور ملائیشیا کے مابین پارلیمانی سفارت کاری اور عوامی سطح پر رابطے دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
معاشی ماہرین اور حکومتی حلقوں کی جانب سے پاک ملائیشیا تعلقات کے اس نئے باب کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، برآمدات اور توانائی کے شعبوں میں کئی نئے معاہدے طے پائیں گے، جس سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فروغ ملے گا اور خطے میں تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔