LIVE
Loading Breaking News...

صدر پزشکیان کا امریکہ سے تنازعہ ختم کرنے اور دباؤ کے خلاف مزاحمت کا اعلان

News Image
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری تنازعہ کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سے ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ یا بدمعاشی کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا۔
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور تنازعہ کو طاقت اور وقار کی پوزیشن سے حل کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات یا تنازعہ کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ تہران طاقت کے مقام پر کھڑا ہو۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ مسعود پزشکیان نے اپنے حالیہ بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کبھی بھی دباؤ، دھمکیوں یا بدمعاشی کے آگے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور موجودہ حالات میں بھی ملکی مفادات کا دفاع پوری قوت سے کیا جائے گا۔ تہران ٹائمز اور دیگر مقامی میڈیا کے مطابق، ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں اور خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے پرامن حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان اور ایران کے تعلقات اور حالیہ خطے کی صورتحال کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشتوں (MoU) میں ایسا کوئی نکتہ یا شق شامل نہیں ہے جو ایران کے سرینڈر یا کمزوری کی غمازی کرتی ہو، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ایران خطے میں امن و امان کا خواہاں ہے لیکن اپنی قومی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، صدر پزشکیان کا طاقت کی پوزیشن سے بات کرنے کا یہ بیان دراصل امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ تہران کو اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے زیر نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے دنوں میں اس بیان کے بعد سفارتی حلقوں میں کیا ہلچل مچتی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران اپنی بیرونی پالیسی میں کسی قسم کی نرمی لانے کے بجائے اپنے قومی وقار کو مقدم رکھنے پر کاربند ہے۔