World
آسیان کا 59 واں یوم تاسیس اور پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کا فروغ
اسلام آباد میں آسیان کے 59 ویں یوم تاسیس کی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقائی امن اور خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب کے دوران پاکستان اور آسیان کے مابین گہرے سفارتی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اسلام آباد میں آسیان (ASEAN) کے 59 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سفارتی برادری کے اہم ارکان اور مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کا بنیادی مقصد آسیان کے قیام کے مقاصد، خطے میں امن و استحکام کے لیے اس کے کردار اور پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ آسیان ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس نے جنوب مشرقی ایشیا میں معاشی ترقی اور باہمی تعاون کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔
تقریب کے دوران پاکستان کے ساتھ آسیان کے بڑھتے ہوئے تعلقات خاص طور پر زیر بحث رہے۔ پاکستان کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ وہ آسیان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہشمند ہے اور 'مکمل ڈائیلاگ پارٹنرشپ' کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت پاکستان کے نمائندے اورنگزیب کھیچی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے آسیان ممالک کے ساتھ تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
اگرچہ آسیان کو درپیش چیلنجز پر بھی بات کی گئی، تاہم یوم تاسیس کی تقریب نے اس بات کو واضح کیا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود آسیان خطے کے لیے ایک اہم سفارتی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا آسیان کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط بڑھانا اس کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے، جس سے نہ صرف تجارتی حجم میں اضافہ متوقع ہے بلکہ ثقافتی تبادلوں کو بھی فروغ ملے گا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور آسیان کے درمیان شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور آسیان کی معاشی طاقت مل کر خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ یہ تقریب نہ صرف دوستی کا اظہار تھی بلکہ مستقبل کے مشترکہ لائحہ عمل کے لیے ایک مثبت پیش رفت بھی ثابت ہوئی۔