LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایران جنگ کے اثرات

News Image
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگی حالات کے پیش نظر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جس کے اثرات قیمتوں پر ظاہر ہو رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جاری کشیدگی کے باعث ایک نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ حالات، خاص طور پر ایران کے ساتھ جنگی صورتحال اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے تجارتی امور میں سامنے آنے والی رکاوٹوں نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر سرمایہ کاروں میں اس بات کا سخت خوف پایا جاتا ہے کہ اگر خطے میں سپلائی چین متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ تجارتی رپورٹس کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ ہوا ہے، جس نے عالمی سطح پر ایک بار پھر معاشی غیر یقینی کی فضا قائم کر دی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تعطل نے تیل کی ترسیل کے راستوں کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں سپلائی کے خدشات قیمتوں میں اضافے کا اہم محرک بن رہے ہیں۔ بانڈ مارکیٹ میں پیدا ہونے والا دباؤ اور اسٹاک مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ بھری کارکردگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ عالمی سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اگر سفارتی سطح پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ تیزی برقرار رہ سکتی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے فوری طور پر کسی بہتری کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے۔ عالمی معاشی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ اگر ایران اور مغربی ممالک کے مابین موجودہ تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہوگا، جس کے اثرات دنیا بھر کے صارفین اور ترقی پذیر معیشتوں پر براہِ راست پڑیں گے۔