LIVE
Loading Breaking News...

ٹک ٹاک کا متنازع تجربہ: امریکی سینیٹرز کا نوٹس، وضاحت طلب

News Image
امریکی سینیٹرز نے ٹک ٹاک انتظامیہ کو خط لکھ کر ایک ایسے تجربے کی وضاحت مانگی ہے جس میں لاکھوں صارفین کے لیے حفاظتی فیچرز کو جان بوجھ کر محدود کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا جس پر حکام کی جانب سے سخت ردعمل دیا گیا ہے۔
امریکی سینیٹ کے دو اہم ارکان نے ٹک ٹاک کی اعلیٰ انتظامیہ کو ایک سخت خط ارسال کیا ہے جس میں کمپنی کی جانب سے کیے جانے والے ایک انتہائی متنازع تجربے کے بارے میں فوری وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ٹک ٹاک نے ایک ایسا تجربہ کیا تھا جس کے دوران کمپنی نے لاکھوں صارفین، جن میں نوعمر بچے بھی شامل تھے، ان کے اکاؤنٹ سے حفاظتی فیچرز کو جان بوجھ کر ہٹا دیا تھا۔ اس اقدام کو سینیٹرز نے 'غیر اخلاقی' اور خطرناک قرار دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک نوعمر لڑکے کی افسوسناک موت کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں، جس میں یہ انکشاف ہوا کہ پلیٹ فارم کے کچھ تجرباتی اقدامات نے صارفین کی ذہنی اور جسمانی حفاظت کو براہ راست خطرے میں ڈالا۔ خط میں سینیٹرز نے ٹک ٹاک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کا جواب دیں کہ کن مقاصد کے تحت صارفین کی حفاظت کو داؤ پر لگایا گیا اور کیا یہ تجربات کسی بھی قانونی اخلاقیات کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ امریکی قانون سازوں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے الگورتھمز اور فیچرز کو بہتر بنانے کے نام پر صارفین، بالخصوص نوجوان نسل کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ نہیں کر سکتیں۔ سینیٹرز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کمپنی کو یہ بتانا ہوگا کہ ان تجربات کے نتائج کیا برآمد ہوئے اور ان کا فیصلہ کرنے والے ذمہ داران کون تھے۔ ٹک ٹاک کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیانات میں اس معاملے پر دفاعی موقف اختیار کیا گیا ہے، تاہم عوامی حلقوں اور والدین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کا ڈیٹا اور ان کی سیکیورٹی ترجیح ہونی چاہیے، نہ کہ کوئی ایسا تجربہ جو انہیں کسی نقصان سے دوچار کر سکے۔ امریکی کانگریس اب اس معاملے کی مزید تہہ تک جانے کے لیے پرعزم ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف سخت ضابطہ اخلاق وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور صارف کو اس طرح کے تجربات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔