LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ بیسنٹ: امریکی مالیاتی منڈیوں میں نئی مداخلت کار پالیسیوں کا آغاز

News Image
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مالیاتی منڈیوں میں غیر معمولی اقدامات کے ذریعے اپنی ایک منفرد شناخت قائم کر لی ہے۔ وہ گزشتہ کئی دہائیوں میں مارکیٹ کی صورتحال پر اثر انداز ہونے والے سب سے زیادہ مداخلت کار وزیر خزانہ بن چکے ہیں۔
امریکہ کے موجودہ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اپنے حالیہ اقدامات اور غیر متوقع مالیاتی فیصلوں کے ذریعے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اسکاٹ بیسنٹ گزشتہ کئی دہائیوں میں سامنے آنے والے سب سے زیادہ مداخلت کار وزیر خزانہ ہیں، جنہوں نے مالیاتی منڈیوں میں اپنی ساکھ کو داؤ پر لگا کر انتہائی جرات مندانہ فیصلے کیے ہیں۔ ان کی یہ حکمت عملی امریکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک بڑے جوے کی مانند دیکھی جا رہی ہے جس کے اثرات طویل المدتی بنیادوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ بیسنٹ کی جانب سے مارکیٹ کے حالات میں براہ راست مداخلت کا رجحان ان کے پیشروؤں سے کافی مختلف رہا ہے۔ وہ صرف پالیسی سازی تک محدود نہیں رہے بلکہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسے غیر روایتی ہتھکنڈے اپنائے ہیں جو برسوں سے کسی امریکی وزیر خزانہ نے نہیں آزمائے تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے یہ اقدامات نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے بھی ان کی پالیسیوں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ یہ براہ راست ڈالر کی قدر اور امریکی بانڈز مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، بیسنٹ کے حامیوں کا یہ مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جارحانہ اقدامات ناگزیر تھے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر وزیر خزانہ منڈیوں میں مداخلت نہ کرتے تو امریکی معیشت کو مزید شدید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ تاہم، ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ مسلسل مداخلت طویل عرصے میں آزاد مارکیٹ کے اصولوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ اقدامات معیشت کو وقتی ریلیف تو دے دیں لیکن مستقبل میں کسی بڑے مالیاتی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوں۔ مستقبل کے حوالے سے اسکاٹ بیسنٹ کے یہ اقدامات اب ایک امتحان کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر ان کی یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے تو وہ تاریخ میں ایک ایسے وزیر خزانہ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے بحران کے وقت درست فیصلے کیے۔ لیکن اگر یہ تجربہ ناکام ہوتا ہے تو اس کے نتائج نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں کے لیے بھی تشویشناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ فی الحال، پوری دنیا کی نظریں اسکاٹ بیسنٹ کے اگلے مالیاتی فیصلوں پر مرکوز ہیں کہ وہ اپنی اس جارحانہ پالیسی کو کس حد تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔