LIVE
Loading Breaking News...

علی بابا کی اے آئی اور ایجنٹک کامرس میں سرمایہ کاری

News Image
چینی ٹیک کمپنی علی بابا مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے جس کا مقصد ایجنٹک کامرس کے شعبے میں جدت لانا ہے۔ کمپنی کی حالیہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق ریونیو میں 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اے آئی پر اخراجات کی وجہ سے منافع میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے۔
چین کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی مستقبل کی حکمت عملی میں مصنوعی ذہانت (AI) کو مرکزی حیثیت دے رہی ہے۔ کمپنی کے حالیہ مالیاتی نتائج کے مطابق، علی بابا 'ایجنٹک کامرس' (Agentic Commerce) پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے، جو کہ خریداری کے عمل کو زیادہ خودکار اور ذہین بنانے کی ایک جدید شکل ہے۔ ایجنٹک کامرس کا مقصد ایسے ڈیجیٹل ایجنٹس تیار کرنا ہے جو صارفین کی ترجیحات کو سمجھتے ہوئے بہتر اور ذاتی نوعیت کے تجارتی تجربات فراہم کر سکیں۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ سہ ماہی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران علی بابا کے ریونیو میں 9 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو کمپنی کے مضبوط مارکیٹ شیئر کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، اس ترقی کے ساتھ ساتھ کمپنی نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی (R&D) پر بھاری اخراجات کیے ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان وسیع تر سرمایہ کاری کے نتیجے میں منافع میں 75 فیصد تک کی کمی واقع ہوئی ہے، جسے کمپنی ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہی ہے تاکہ مستقبل میں عالمی سطح پر مسابقت کو برقرار رکھا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علی بابا کا یہ اقدام نہ صرف چین بلکہ عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے ایک جرات مندانہ فیصلہ ہے۔ 'ایجنٹک کامرس' کے ذریعے کمپنی کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اے آئی ٹیکنالوجی کے امتزاج سے اپنے ای کامرس پلیٹ فارمز کو مزید فعال بنانا چاہتی ہے۔ کمپنی کے حکام پرامید ہیں کہ اے آئی میں کی جانے والی یہ بھاری سرمایہ کاری جلد ہی منافع بخش ثابت ہوگی اور علی بابا کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئے دور کی جانب لے کر جائے گی۔ علی بابا کی جانب سے یہ حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پوری دنیا میں ٹیک کمپنیاں اے آئی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں۔