LIVE
Loading Breaking News...

انوڈیا کا چین میں نیا چپ متعارف کرانے کا ارادہ، امریکی پابندیوں کا چیلنج

News Image
انوڈیا کمپنی چینی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی پر مبنی چپ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی برآمدی پابندیوں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے چینی صارفین کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی دیو اینویڈیا (NVIDIA) ایک بار پھر چینی مارکیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی پوزیشن کو بحال کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق کمپنی ایک نئی اے آئی چپ تیار کر رہی ہے جو خصوصی طور پر چینی مارکیٹ کی ضروریات اور امریکی برآمدی کنٹرول کے قوانین کے مطابق ڈیزائن کی گئی ہے۔ اینویڈیا کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین اپنی مقامی چپ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے اور مقامی کمپنی ایس ایم آئی سی (SMIC) امریکی پابندیوں کے باعث چینی مارکیٹ میں ایک اجارہ دار کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اینویڈیا اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اپنے جدید ترین اے آئی آلات فراہم کیے بغیر چینی کسٹمرز کو ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے نہ رہنے دے۔ تاہم، اینویڈیا نے باضابطہ طور پر ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ وہ کسی نئے پروجیکٹ کے ذریعے براہ راست پابندیوں کو چیلنج کر رہی ہے۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیاں چینی مارکیٹ میں اینویڈیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں، جہاں امریکی حکومت کا مقصد بیجنگ کی اعلیٰ سطح کے اے آئی ہارڈویئر تک رسائی کو روکنا ہے۔ دوسری جانب چین میں ایس ایم آئی سی جیسی کمپنیاں ان پابندیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مقامی پیداوار اور صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہیں، جس سے اینویڈیا کے لیے مارکیٹ شیئر برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں انوڈیا کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ ایسی مصنوعات پیش کرے جو امریکی حکام کی نظر میں 'پابندیوں کے مطابق' ہوں اور چینی کمپنیوں کی کمپیوٹنگ ضروریات کو بھی کسی حد تک پورا کر سکیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ عمل ہے کیونکہ امریکی محکمہ تجارت مسلسل اپنی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے تاکہ چین کو جدید ترین چپ ٹیکنالوجی تک رسائی سے روکا جا سکے۔ انوڈیا کی یہ کوشش اس بات کی عکاس ہے کہ چین اب بھی دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی مارکیٹوں میں سے ایک ہے اور اس سے مکمل طور پر دستبردار ہونا کسی بھی بڑی کمپنی کے لیے مالی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو انوڈیا اور امریکی حکومت کے درمیان یہ رسہ کشی مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ جہاں ایک طرف انوڈیا اپنی تجارتی بقا کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف چین بھی اپنی تکنیکی خود انحصاری کے سفر میں تیزی لارہا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا انوڈیا اپنے نئے چپ پروجیکٹ کے ذریعے چینی مارکیٹ میں اپنا تسلط دوبارہ قائم کر پاتی ہے یا امریکی پابندیاں اسے چین سے مزید دور دھکیل دیں گی۔