LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان کی صحت اور اڈیالہ جیل منتقلی: تازہ ترین خبریں

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تنہائی کی وجہ سے سابق وزیراعظم کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ ہسپتال سے واپسی پر ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر مکمل فٹ قرار دیتے ہوئے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو ایک مختصر طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز ہسپتال لایا گیا تھا جہاں مختلف ٹیسٹ اور چیک اپ کے بعد انہیں واپس جیل بھیج دیا گیا۔ سرکاری ذرائع اور حکومتی وزراء کے مطابق ہسپتال میں موجود طبی ماہرین نے عمران خان کو مکمل طور پر صحت مند اور فٹ قرار دیا ہے جس کے بعد انہیں سیکیورٹی حصار میں اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد جیل حکام کی جانب سے ان کی حفاظت اور طبی نگہداشت کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کی ہمشیرہ کی جانب سے سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ان سے ملاقات کے دوران شکایت کی ہے کہ طویل عرصے سے تنہائی میں قید رکھے جانے کی وجہ سے ان کی صحت پیچیدہ مسائل کا شکار ہو رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جیل میں تنہائی کی کیفیت کا براہِ راست اثر ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں طبی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ تاہم حکومتی ترجمانوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جیل میں قیدیوں کے تمام حقوق کا خیال رکھا جا رہا ہے اور کسی بھی طبی ضرورت کی صورت میں انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو کسی بھی قسم کی تشویشناک صورتحال کا سامنا نہیں ہے اور انہیں باقاعدگی سے طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس ساری صورتحال نے سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے جہاں ایک طرف سیاسی مخالفین اور حکومتی ارکان انہیں قانون کی پاسداری کا مشورہ دے رہے ہیں، وہیں پی ٹی آئی کی قیادت اپنے لیڈر کی جیل میں سہولیات اور صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ قیدی کے بنیادی انسانی حقوق اور طبی ضروریات کو یقینی بنایا جا سکے۔