LIVE
Loading Breaking News...

لیبیا میں اتحاد اور سیاسی استحکام کی نئی کوششیں، اہم پیشرفت

News Image
لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے پندرہ سال بعد ملک میں پائیدار امن اور سیاسی استحکام کے لیے نئی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ تمام متحارب سیاسی دھڑے ایک مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
لیبیا میں معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے اور طرابلس کے گرنے کے پندرہ سال بعد ایک بار پھر ملک میں سیاسی استحکام اور قومی اتحاد کے لیے امید کی کرنیں نظر آ رہی ہیں۔ طویل عرصے تک خانہ جنگی، تقسیم اور بدامنی کا شکار رہنے کے بعد اب لیبیا کی حریف سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر ملک کے مستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کر رہی ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عوام ملک میں امن، بحالی اور معاشی بہتری کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ ماضی کے تلخ تجربات کے بعد اب تمام متعلقہ فریقین نے محسوس کیا ہے کہ تقسیم کا یہ سلسلہ ملک کو مزید تباہی کی طرف لے جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، پچھلی ڈیڑھ دہائی میں لیبیا کو جس انتشار کا سامنا رہا، اس نے قومی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اب بین الاقوامی برادری کی مدد اور مقامی رہنماؤں کی کوششوں سے ایک عبوری روڈ میپ پر بات چیت جاری ہے جس کا مقصد ملک میں آزادانہ انتخابات کا انعقاد اور ایک مستحکم حکومت کا قیام ہے۔ اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں، لیکن یہ مذاکرات ایک مثبت سمت میں پیش قدمی تصور کیے جا رہے ہیں۔ اتحاد کی یہ نئی راہ لیبیا کے طول و عرض میں بسنے والے شہریوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ طرابلس سمیت دیگر اہم شہروں میں عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر تمام فریقین اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ملک کی خودمختاری کو ترجیح دیں تو لیبیا ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ امن کے اس عمل میں جہاں مقامی قبائل اور سیاسی تنظیموں کا کردار اہم ہے، وہیں عالمی طاقتوں کی جانب سے دی جانے والی حمایت بھی اس عمل کو نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس سیاسی عمل کے مزید واضح نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی مفاہمت کی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، لیکن اس بار بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور عوام کا بڑھتا ہوا دباؤ فریقین کو سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ لیبیا کے عوام اب یہ توقع کر رہے ہیں کہ پندرہ سالہ انتشار کے بعد اب ان کا ملک ایک پرامن اور خوشحال دور میں داخل ہوگا۔ دنیا بھر کی نظریں اب لیبیا کی سیاسی قیادت پر ہیں کہ آیا وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنا پاتے ہیں یا نہیں۔