LIVE
Loading Breaking News...

لاس اینجلس امیگریشن چھاپے: وفاقی ایجنٹس کے خلاف توہین آمیز زبان کے استعمال کا انکشاف

News Image
عدالتی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی امیگریشن ایجنٹس نے لاس اینجلس میں چھاپوں کے دوران افراد کو نشانہ بناتے ہوئے توہین آمیز زبان استعمال کی۔ اس واقعے کے بعد تارکین وطن کے حقوق کے حامیوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
نئے عدالتی ریکارڈز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وفاقی امیگریشن ایجنٹس نے گزشتہ سال لاس اینجلس میں کی جانے والی کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران تذلیل آمیز اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔ یہ انکشافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک بھر میں تارکین وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر پہلے ہی شدید بحث جاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ متاثرہ افراد کے بنیادی انسانی حقوق پر بھی حملہ ہیں۔ سامنے آنے والی دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح چھاپوں کے دوران ایجنٹس نے اپنی پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے توہین آمیز رویہ اپنایا۔ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے تعصب پر مبنی رویے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، متعلقہ حکام نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم انسانی حقوق کے کارکنان نے دباؤ بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ تارکین وطن کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔