World
فلسطینی متاثرین: اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کے خلاف انصاف کی جدوجہد
عالمی یومِ یادگاری برائے متاثرینِ دہشت گردی کے موقع پر فلسطینی خاندان اپنے پیاروں کو یاد کر رہے ہیں جو اسرائیلی آباد کاروں کے پرتشدد واقعات میں لاپتہ ہو گئے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انصاف کا حصول اب بھی ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ بنا ہوا ہے۔
عالمی یومِ یادگاری برائے متاثرینِ دہشت گردی کے موقع پر، فلسطین کے ان خاندانوں نے اپنے پیاروں کو یاد کیا ہے جو اسرائیلی آباد کاروں کے پرتشدد حملوں اور کارروائیوں کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔ یہ دن ان بے شمار فلسطینیوں کے نام ہے جنہوں نے نہ صرف اپنی جانیں گنوائیں بلکہ ان کے اہل خانہ دہائیوں سے انصاف کی دہلیز پر انصاف کے منتظر ہیں۔ ان واقعات نے فلسطینی معاشرے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں آباد کاروں کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کوئی ٹھوس کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا یا لاپتہ افراد کے مقدمات میں انصاف کا حصول ایک ناممکن کام بن چکا ہے۔ آباد کاروں کے حملوں کے شکار افراد کے ورثاء قانونی پیچیدگیوں اور اسرائیلی نظامِ انصاف کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیے جانے کے باعث شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق، جب بھی وہ انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، انہیں انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سسٹم ان کے حق میں بالکل بھی نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں کہ کس طرح مقبوضہ علاقوں میں آباد کاروں کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں اور ان کے مرتکب افراد کو قانون کی گرفت سے دور رکھا جاتا ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی کو فلسطینی اپنے لیے ایک بڑی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ اس یومِ یادگاری پر، فلسطینیوں نے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں بلکہ ان لاپتہ افراد کے کیسز کو شفاف تحقیقات کے لیے بین الاقوامی عدالتوں میں بھی لے کر جائیں۔
آخر میں، فلسطینی عوام کا عزم ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی یاد کو زندہ رکھیں گے اور انصاف ملنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کے متاثرین کو نظر انداز کرنا دنیا بھر کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ جب تک متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، تب تک اس خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔