Technology
آسٹریلیا میں الیکٹرک گاڑیوں کا رجحان اور اخراجات کا تجزیہ
آسٹریلیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 6 لاکھ 50 ہزار تک پہنچ گئی ہے جس سے ماحول دوست سواریوں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ صارفین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا پیٹرول گاڑیوں کے مقابلے میں برقی گاڑیاں چلانے کے اخراجات واقعی کم ہیں۔
آسٹریلیا میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی کل تعداد چھ لاکھ پچاس ہزار کے ہندسے کو عبور کر گئی ہے۔ خاص طور پر جون کی سہ ماہی کے دوران آسٹریلیا نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آسٹریلوی عوام اب روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو چھوڑ کر ماحول دوست ٹیکنالوجی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف حکومتی مراعات بلکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم، اب یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا الیکٹرک گاڑیاں چلانا طویل مدتی بنیادوں پر واقعی سستا ثابت ہوتا ہے یا اس کے پیچھے چھپے اخراجات زیادہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتِ خرید اب بھی روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، لیکن اسے چلانے کے خرچے میں نمایاں فرق ہے۔ برقی گاڑیوں کو چارج کرنے کی لاگت، پیٹرول کے مقابلے میں بہت کم ہے، خاص طور پر اگر صارف کے پاس گھر پر سولر سسٹم موجود ہو۔ اس کے علاوہ، الیکٹرک گاڑیوں کے انجن میں کم پرزے ہونے کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال اور سروس کا خرچہ بھی کافی کم ہوتا ہے، جو طویل مدت میں اسے ایک فائدہ مند سرمایہ کاری بناتا ہے۔ دوسری جانب، کچھ ماہرین انتباہ کرتے ہیں کہ الیکٹرک گاڑیوں کی ری سیل ویلیو (Resale Value) اور بیٹری کی تبدیلی کے ممکنہ اخراجات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ اگرچہ موجودہ مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیاں ایک جدید اور ماحول دوست انتخاب کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں، لیکن عام صارفین کے لیے اس کا فیصلہ کرتے وقت چارجنگ انفراسٹرکچر کی دستیابی اور اپنی روزمرہ کی سفری ضروریات کو مدنظر رکھنا بہت اہم ہے۔ مجموعی طور پر، آسٹریلیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ اس بات کی تصدیق ہے کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ عوام کا رویہ بدل رہا ہے اور مستقبل کی نقل و حمل کا انحصار برقی توانائی پر ہی ہوگا۔