World
امریکہ میں تباہ کن آگ کے بعد دوبارہ تعمیرات پر ماہرین کا خدشہ
امریکہ کے مہنگے ترین جنگلات کی آگ سے تباہ ہونے والے پیسیفک پیلیسیڈز میں دوبارہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ حفاظتی اقدامات کے بغیر یہ علاقہ مستقبل میں ایک بار پھر آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
امریکہ کی تاریخ میں جنگلات میں لگنے والی سب سے مہنگی اور تباہ کن آگ کے بعد کیلیفورنیا کا علاقہ 'پیسیفک پیلیسیڈز' ایک بار پھر راکھ کے ڈھیر سے ابھر رہا ہے۔ اس علاقے میں جہاں کسی زمانے میں پرتعیش رہائش گاہیں موجود تھیں، اب وہاں ہزاروں نئے گھروں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ تاہم، تعمیراتی ماہرین اور شہری منصوبہ سازوں کی جانب سے اس بحالی کے عمل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیسیفک پیلیسیڈز کو ان ہی بنیادی خطرات کے ساتھ دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے جس نے اسے ماضی میں راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا، اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل میں یہ علاقہ دوبارہ آگ کی تباہ کاریوں کا نشانہ بن سکتا ہے۔
اس وقت تقریباً ایک ہزار کے قریب گھروں پر کام جاری ہے، لیکن سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ان تعمیرات کے دوران آگ سے بچاؤ کے جدید اور مستحکم تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے؟ ماہرین کے مطابق، لاس اینجلس کا یہ امیر ترین علاقہ ایک ایسے جغرافیائی مقام پر واقع ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں اور خشک ہواؤں کے باعث آگ کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اگر گھروں کی تعمیر میں مقامی قدرتی ماحول اور آگ کو روکنے والے جدید مواد کا استعمال نہیں کیا گیا، تو یہ صرف ایک وقتی بحالی ہوگی جو اگلی بڑی آفت کی صورت میں دوبارہ ملیا میٹ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب مقامی رہائشی اور حکام تعمیراتی سرگرمیوں کو معاشی بحالی کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ علاقے کی تعمیرِ نو سے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور پراپرٹی کی قیمتوں میں استحکام آ رہا ہے۔ لیکن تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ صرف خوبصورت عمارتیں کھڑی کر دینا کافی نہیں ہے بلکہ شہر کی منصوبہ بندی میں جنگلات کی آگ سے تحفظ کے لیے 'بفر زونز' اور پانی کے بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکام ماہرین کی ان تنبیہات کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی جامع پالیسی وضع کرتے ہیں یا یہ علاقہ محض اپنی پرتعیش شناخت بچانے کی کوشش میں دوبارہ خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔