LIVE
Loading Breaking News...

انتھروپک کی نئی ڈیٹا پالیسی: کاروباری صارفین کے لیے مزید تحفظ اور کنٹرول

News Image
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی انتھروپک اپنے کاروباری صارفین کو ڈیٹا پر مزید کنٹرول دینے کے لیے اپنی ڈیٹا ریٹینشن پالیسی میں اہم تبدیلیاں متعارف کروا رہی ہے۔ یہ قدم کلاڈ چیٹ بوٹ کے استعمال کو محفوظ بنانے اور کارپوریٹ ڈیٹا کی پرائیویسی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں سرگرم معروف کمپنی 'انتھروپک' (Anthropic) نے اپنے انٹرپرائز صارفین کے لیے ڈیٹا ریٹینشن پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، کمپنی اب اپنے کاروباری صارفین کو اس بات کی اجازت دینے جا رہی ہے کہ وہ اپنے ڈیٹا کے استعمال اور اسے محفوظ رکھنے کے عمل پر پہلے سے زیادہ کنٹرول حاصل کر سکیں۔ یہ اقدام ان خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے جن کا اظہار اکثر بڑی کمپنیاں اے آئی ماڈلز کے ساتھ ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے کرتی ہیں۔ انتھروپک کا مقبول ترین پروڈکٹ 'کلاڈ' (Claude) چیٹ بوٹ ہے، جسے دنیا بھر میں جدید اے آئی ماڈلز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اب تک کی پالیسیوں کے تحت، انٹرپرائز صارفین کے پاس ڈیٹا کی ہینڈلنگ کے حوالے سے محدود اختیارات تھے۔ نئی تبدیلیوں کے بعد، کمپنیاں اس بات کا بہتر تعین کر سکیں گی کہ ان کا حساس ڈیٹا کب تک اور کس طرح اے آئی ماڈلز کے ٹریننگ یا میموری میں رہے گا۔ اس سے کاروباری اداروں کے لیے اپنی ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی پروٹوکولز کی تعمیل کرنا آسان ہو جائے گا۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انتھروپک کا یہ فیصلہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں کارپوریٹ کلائنٹس اے آئی ٹولز کے استعمال کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ گوگل، اوپن اے آئی اور مائیکرو سافٹ جیسی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں انتھروپک نے خود کو ایک ایسی کمپنی کے طور پر متعارف کرایا ہے جو سیکیورٹی اور 'سیفٹی فرسٹ' اپروچ پر یقین رکھتی ہے۔ ڈیٹا ریٹینشن میں یہ لچک نہ صرف موجودہ صارفین کو برقرار رکھنے میں مدد دے گی بلکہ نئے بڑے کارپوریٹ کلائنٹس کو بھی راغب کرے گی۔ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے ہفتوں میں انتھروپک اس پالیسی کی باقاعدہ تفصیلات جاری کرے گی۔ یہ پیش رفت اے آئی انڈسٹری میں ڈیٹا گورننس کے ایک نئے معیار کو قائم کرے گی، جہاں کاروباری رازوں اور حساس معلومات کی حفاظت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ فی الحال، کمپنی کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے، تاہم انڈسٹری مبصرین اسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک مثبت اور ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔