LIVE
Loading Breaking News...

علی بابا گروپ کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ: کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں بڑی کامیابی

News Image
چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران کلاؤڈ سروسز کے شعبے میں غیر معمولی ترقی درج کی ہے۔ کمپنی کی مجموعی آمدنی میں نو فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کے باعث منافع میں کمی دیکھی گئی ہے۔
عالمی ای کامرس اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی علی بابا گروپ ہولڈنگ لمیٹڈ نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج جاری کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ریونیو میں 45 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ یہ کامیابی کمپنی کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں کی جانے والی نئی سرمایہ کاری کا ثمر ہے، جس نے کمپنی کو عالمی سطح پر مسابقتی مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن فراہم کی ہے۔ اس سہ ماہی میں کمپنی کی کل آمدنی 269 ارب یوآن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نو فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، کمپنی کے منافع کے اعداد و شمار ملا جلا رجحان ظاہر کرتے ہیں۔ ایڈجسٹ شدہ ایبٹا (EBITDA) 27.3 ارب یوآن رہا، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی طرح گیپ (GAAP) نیٹ انکم 10.4 ارب یوآن ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 75 فیصد کم ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ منافع میں اس نمایاں کمی کی بنیادی وجہ کمپنی کی جانب سے جدید ٹیکنالوجیز، خاص طور پر کلاؤڈ اور اے آئی سیکٹرز میں کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری ہے۔ علی بابا کی حکمت عملی ہے کہ وہ مختصر مدت کے منافع کے بجائے طویل مدتی ترقی اور تکنیکی برتری پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق علی بابا کی جانب سے ٹیکنالوجی میں یہ بھاری سرمایہ کاری کمپنی کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کر رہی ہے۔ اگرچہ منافع میں عارضی کمی سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے، لیکن کلاؤڈ ریونیو میں 45 فیصد کا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علی بابا کی کاروباری حکمت عملی درست سمت میں گامزن ہے۔ کمپنی انتظامیہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ شیئر کو بڑھانے اور صارفین کو جدید ترین کلاؤڈ حل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ آنے والی سہ ماہیوں میں، کمپنی ان سرمایہ کاریوں سے حاصل ہونے والے نتائج کو منافع میں تبدیل کرنے کی توقع رکھتی ہے۔