LIVE
Loading Breaking News...

پرسکون مالی زندگی کے لیے 60 اور 70 کی دہائی کے آزمودہ مالیاتی گر

News Image
آج کے جدید دور میں جہاں موبائل ایپس آپ کے ہر اخراجات کا حساب رکھتی ہیں، وہیں ساٹھ اور ستر کی دہائی کی پرانی عادات اب بھی مالی بچت کے لیے بہترین مانی جاتی ہیں۔ یہ روایتی طریقے آپ کو غیر ضروری اخراجات سے بچا کر پیسے بچانے میں حقیقی مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں مالیاتی ایپس آپ کے ہر اخراجات پر نظر رکھتی ہیں۔ چاہے وہ کسی ریسٹورنٹ کا بل ہو، خریداری کا خرچہ ہو یا کوئی ایسی سبسکرپشن جو آپ بھول چکے ہیں، یہ ایپس سب کچھ رنگین چارٹس میں دکھاتی ہیں۔ تاہم، کیا یہ ایپس آپ کو حقیقت میں امیر بنا رہی ہیں؟ مالی ماہرین کا ماننا ہے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں پروان چڑھنے والی نسل کے پاس پیسے بچانے کے کچھ ایسے بنیادی اور آزمودہ اصول تھے جو آج کی کسی بھی جدید ایپ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے مالیاتی عادات محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی تھے جس نے انہیں معاشی طور پر زیادہ مستحکم رکھا۔ سب سے پہلا اہم اصول 'ضرورت اور خواہش میں فرق' کرنا تھا۔ اس دور کے لوگ صرف ان چیزوں پر خرچ کرتے تھے جو بنیادی ضرورت ہوتی تھیں۔ دوسری اہم عادت 'نقد ادائیگی' کا رواج تھا۔ جب آپ اپنے ہاتھ سے نوٹ گن کر دیتے ہیں تو آپ کے دماغ کو خرچ کا احساس زیادہ ہوتا ہے، برعکس کریڈٹ کارڈ یا ڈیجیٹل پیمنٹ کے جہاں رقم کا احساس کم ہو جاتا ہے۔ تیسری عادت گھر پر کھانا پکانے کو ترجیح دینا تھی، جس سے باہر کے فضول اخراجات میں نمایاں کمی آتی تھی۔ اس کے علاوہ، چیزوں کی مرمت کر کے انہیں دوبارہ استعمال کرنا (Reuse & Repair) ان لوگوں کا شعار تھا، جس سے وہ فضول چیزیں خریدنے سے بچ جاتے تھے۔ چوتھی بڑی عادت 'قرض سے مکمل اجتناب' تھا۔ اس زمانے کے لوگ اپنی آمدنی کے اندر رہ کر زندگی گزارنے پر یقین رکھتے تھے۔ پانچویں عادت 'بچت کو اخراجات سے پہلے الگ کرنا' تھی، یعنی تنخواہ ملتے ہی بچت کا حصہ الگ کر لیا جاتا تھا اور باقی رقم سے مہینہ چلایا جاتا تھا۔ چھٹی عادت 'مقامی بازاروں سے خریداری' تھی، جو بڑے مالز کی نسبت سستے بھی ہوتے تھے اور وہاں غیر ضروری اشیاء کی نمائش کم ہوتی تھی۔ ساتویں عادت 'گھر کے بجٹ کا کاغذی ریکارڈ' رکھنا تھا، جس سے انسان کو اپنی مالی حد معلوم رہتی تھی۔ آٹھویں اور نویں عادات میں 'مستقبل کی منصوبہ بندی' اور 'سادہ زندگی' کا انتخاب شامل ہے۔ اس دور کے لوگ دکھاوے کی زندگی کے بجائے اپنی جمع پونجی کو محفوظ سرمایہ کاری میں لگانے کو ترجیح دیتے تھے۔ آج کی ایپس ہمیں یہ تو بتا سکتی ہیں کہ ہم نے کتنا خرچ کیا، لیکن یہ پرانے اصول ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ خرچ کرنا ہی کیوں ہے۔ ان روایتی طریقوں کو اپنانا نہ صرف آپ کی جیب کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ آپ کو ایک ذہنی سکون بھی فراہم کرتا ہے جو جدید ایپس کے انتباہی نوٹیفکیشنز سے ممکن نہیں۔