Technology
فلک سیفٹی کی نگرانی کرنے والے ڈرونز: ٹیکنالوجی اور پرائیویسی کا نیا چیلنج
فلک سیفٹی نامی متنازعہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اب لائسنس پلیٹ ریڈرز کے بعد ڈرونز کے ذریعے نگرانی کے نظام کو وسیع کر رہی ہے۔ یہ اقدام عوامی مقامات پر نگرانی کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی بحثوں کو جنم دے رہا ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ’فلک سیفٹی‘، جو اپنی خودکار لائسنس پلیٹ ریڈرز اور مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے پہلے ہی کافی متنازعہ حیثیت رکھتی ہے، اب نگرانی کے اپنے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے حالیہ اعلانات کے مطابق، اب وہ زمین پر موجود کیمروں سے نکل کر فضا میں موجود ڈرونز کے ذریعے نگرانی کے نظام کو متعارف کرانے جا رہی ہے۔ یہ پیشرفت ان لوگوں کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے جو عوامی مقامات پر بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ذاتی پرائیویسی کے تحفظ کے حوالے سے پہلے ہی تشویش کا شکار ہیں۔
فلک سیفٹی کا یہ نیا منصوبہ بنیادی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک ایسا خودکار اور مربوط نظام فراہم کرنا ہے جس سے جرائم کی روک تھام میں مدد مل سکے۔ ڈرونز کا یہ نظام نہ صرف حقیقی وقت میں نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مشکوک نقل و حرکت کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان مقامات پر بھی نگرانی کر سکتی ہے جہاں عام کیمرے نہیں پہنچ سکتے، تاہم ناقدین اسے 'بڑے بھائی' (Big Brother) کے تصور سے تعبیر کر رہے ہیں جہاں ہر شہری ہر وقت کسی نہ کسی کیمرے یا ڈرون کی نظر میں ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی امریکہ بھر میں ڈیٹا پرائیویسی اور شہری آزادیوں کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ ڈرونز کے ذریعے کی جانے والی یہ نگرانی نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ یہ شہریوں کی پرائیویسی کو شدید خطرات میں ڈالتی ہے۔ اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جمع کیا گیا ڈیٹا کسی غلط ہاتھوں میں جا سکتا ہے یا اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے فلک سیفٹی کی حکمت عملی صاف ظاہر ہے کہ وہ نگرانی کے کاروبار میں مکمل غلبہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ تکنیکی ترقی اور سیکیورٹی کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اس قسم کے جدید نظام کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ تاہم، کیا معاشرہ اتنی وسیع پیمانے پر نگرانی کو قبول کرے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور ان پر عائد ہونے والے قانونی ضوابط پر منحصر ہوگا۔