World
ایلکس جونز پر عائد ہرجانے میں امریکی عدالت کی بڑی کٹوتی
امریکی عدالت نے انفوز وارز کے بانی ایلکس جونز پر عائد کردہ ہرجانے کی رقم کو 50 ملین ڈالر سے کم کر کے 1.5 ملین ڈالر کر دیا ہے۔ جونز پر الزام تھا کہ انہوں نے اسکول شوٹنگ کے واقعے کو جھوٹا قرار دے کر متاثرین کے خاندانوں کو ذہنی اذیت پہنچائی تھی۔
امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کی ایک عدالت نے انفوز وارز کے بانی اور معروف امریکی براڈکاسٹر ایلکس جونز پر سینڈی ہک اسکول شوٹنگ کیس میں عائد کردہ ہرجانے کی رقم میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق، ایلکس جونز کو پہلے 50 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم اب اس رقم کو کم کر کے 1.5 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک طویل عدالتی جنگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں جونز پر یہ ثابت ہوا تھا کہ انہوں نے 2012 میں ہونے والے اس سانحے کو ایک 'ڈرامہ' یا 'جعلی واقعہ' قرار دے کر متاثرین کے لواحقین کی توہین کی تھی۔
ایلکس جونز نے کئی سالوں تک اپنے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں ہونے والی شوٹنگ ایک من گھڑت کہانی ہے اور اس میں مرنے والے بچے حقیقت میں موجود نہیں تھے۔ ان جھوٹے اور بے بنیاد دعووں کی وجہ سے متاثرین کے خاندانوں کو نہ صرف ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ انہیں آن لائن ہراساں بھی کیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا تھا کہ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی دوسرے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے یا جھوٹ پھیلا کر کسی کو ذہنی صدمہ دیا جائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، ہرجانے کی رقم میں یہ کمی عدالتی کارروائی کے دوران قانونی تکنیکی پہلوؤں اور موجودہ قوانین کی تشریح کے بعد کی گئی ہے۔ تاہم، اس فیصلے نے متاثرین کے حقوق کے لیے لڑنے والوں میں مایوسی بھی پیدا کی ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ جونز کے اقدامات ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے تھے۔ جونز کی جانب سے کیے گئے ان دعووں نے امریکہ میں غلط معلومات کے پھیلاؤ اور میڈیا کی ذمہ داریوں پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی تھی۔
فی الحال ایلکس جونز کے وکلاء نے اس عدالتی فیصلے پر محتاط ردعمل دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بھاری جرمانہ کم ہونے سے غلط معلومات پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، یہ مقدمہ دنیا بھر کے میڈیا اداروں کے لیے ایک سبق ہے کہ عوامی پلیٹ فارمز پر غیر مصدقہ اور ہتک آمیز مواد نشر کرنے کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔ عدالتی کارروائی کے اگلے مراحل اور متاثرین کی جانب سے ممکنہ اپیلوں پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔