LIVE
Loading Breaking News...

فضائی عملے میں کینسر کا خطرہ: ہارورڈ یونیورسٹی کی نئی تحقیق

News Image
ہارورڈ یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق میں فضائی سفر کے عملے کو کینسر کے خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق طیاروں میں بلند بلندی پر موجود کاسمک تابکاری عملے کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک نئی طبی تحقیق نے فضائی صنعت سے وابستہ افراد، خاص طور پر ہوائی جہازوں کے عملے (فلائٹ کریو) کی صحت کے بارے میں تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق، پائلٹس اور کیبن کریو کے ارکان میں کینسر جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ عام آبادی کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ وہ کاسمک تابکاری (Cosmic Radiation) ہے جس کا سامنا طیاروں کے عملے کو فضا میں بلند ترین بلندیوں پر پرواز کے دوران کرنا پڑتا ہے۔ تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ زمین کی فضا میں بلند ہونے کے ساتھ ساتھ کاسمک ریز کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے انسانی خلیات میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ طویل عرصے تک ایسی تابکاری کے زیر اثر رہنے سے عملے کے ارکان میں جلد کے کینسر سمیت مختلف اقسام کے ٹیومرز پیدا ہونے کا خدشہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ ہوائی سفر کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر عملے کے لیے یہ ایک پیشہ ورانہ خطرہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کے مطابق، اس مسئلے کے حل کے لیے ایئرلائنز کو اپنے عملے کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس میں پروازوں کے دوران تابکاری کی سطح کی مسلسل نگرانی، عملے کے ڈیوٹی کے اوقات میں ردوبدل، اور طبی معائنوں کا تسلسل شامل ہونا چاہیے۔ تحقیق میں مزید زور دیا گیا ہے کہ اس پیشے سے وابستہ افراد کو کینسر کی ابتدائی علامات کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ اس مطالعے کے نتائج نے عالمی سطح پر ایوی ایشن انڈسٹری میں حفاظتی معیارات پر نظر ثانی کی بحث چھیڑ دی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ذاتی احتیاط کافی نہیں ہے، بلکہ ایئرلائن کمپنیوں اور حکومتوں کو مل کر ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جن سے فضائی عملے کو اس تابکاری کے مہلک اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مستقبل میں اس حوالے سے مزید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہوائی جہازوں کے ڈیزائن میں ایسی تبدیلیاں لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جو تابکاری کے اثرات کو کم کر سکیں۔