Pakistan
پاکستان اور ملائیشیا کے تعلقات: وزیر اعظم شہباز شریف کا اہم بیان
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ملائیشیا کے مابین دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری اور سیکورٹی کے امور میں تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان دیرینہ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے سفارتی اور اقتصادی روابط کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مفاد پر مبنی تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے، اور ملائیشیا کے ساتھ سیکورٹی اور تجارت کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید گہرا کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان اور ملائیشیا کے مابین تجارت، زراعت، اور دفاعی امور میں تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کو اپنی اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ملائیشیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے وقتوں میں یہ دوطرفہ تعلقات نہ صرف معاشی خوشحالی لائیں گے بلکہ خطے کے امن و استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
مزید برآں، وزیر اعظم نے سیکورٹی کے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔ وفاقی حکومت اس عزم پر کاربند ہے کہ ملائیشیا کے ساتھ اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں کے ذریعے ان تعلقات کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ عوام کے درمیان رابطے بھی مضبوط ہوں۔ وزیر اعظم کے اس عزم کا مقصد پاکستان کی خارجہ پالیسی کو متوازن بناتے ہوئے بین الاقوامی برادری میں ملک کے وقار کو بلند کرنا ہے، جس کے لیے ملائیشیا جیسے دیرینہ دوستوں کے ساتھ تعلقات کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔