Business
امریکی ڈالر کی قدر میں بڑی گراوٹ، سرمایہ کاروں میں تشویش
امریکی کرنسی ڈالر کی قدر میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے جو کہ تین ماہ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس گراوٹ کی بڑی وجہ امریکی ٹریژری کے بائی بیک پروگرام سے جڑے مالیاتی خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے جس کے بعد ڈالر گزشتہ تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا ہے۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی ٹریژری کے بائی بیک پروگرام کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے ملکی مالیاتی پالیسی اور فیڈرل ریزرو کے اہداف کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں کرنسی کی قدر میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔
فاریکس مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی ڈالر پر دباؤ اس وقت بڑھا جب مارکیٹ نے ٹریژری کے بائی بیک پروگرام کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اس پروگرام کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ امریکی قرضوں کے انتظام کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، جس کے اثرات براہ راست ڈالر کی شرح تبادلہ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اہم کرنسی جوڑوں جیسے یورو، برطانوی پاؤنڈ اور جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کار امریکی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے محتاط رویہ اپنا رہے ہیں۔
مزید برآں، مارکیٹ کی نظریں اب امریکی اقتصادی اعداد و شمار، خاص طور پر پی ایم آئی (PMI) ڈیٹا پر جمی ہوئی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ڈیٹا امریکی معیشت کی موجودہ رفتار اور مہنگائی کی صورتحال کے بارے میں اہم اشارے فراہم کرے گا۔ اگر پی ایم آئی کے اعداد و شمار توقعات کے برعکس آئے تو امریکی ڈالر کی گراوٹ میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو اپنی شرح سود کی پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی لاتا ہے تو اس سے کرنسی کی مارکیٹ میں مزید ہنگامہ خیزی پیدا ہو سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ فاریکس مارکیٹ کے غیر یقینی ماحول میں اپنے پورٹ فولیوز کو متوازن رکھیں۔ ڈالر کی قدر میں حالیہ کمی نہ صرف امریکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر تجارتی توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں ٹریژری کی جانب سے مزید وضاحتیں اور امریکی مرکزی بینک کے فیصلوں پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہیں گی تاکہ مارکیٹ میں استحکام کے آثار تلاش کیے جا سکیں۔