LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں گوشت کی قیمتوں میں کمی کے لیے ٹرمپ کا بڑا فیصلہ

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم اقدام اٹھایا ہے۔ اس فیصلے کے تحت 90 دنوں تک درآمدی بیف پر کوٹہ کی پابندیوں کو عارضی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں گوشت کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم پالیسی فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، اگلے 90 دنوں تک درآمدی بیف پر لاگو 'آؤٹ آف کوٹہ' ٹیرف کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں گوشت کی فراہمی کو بڑھانا ہے تاکہ طلب اور رسد کے توازن کو بہتر بنا کر قیمتوں میں کمی لائی جا سکے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس عارضی رعایت سے مقامی مارکیٹ میں بیف کی دستیابی میں اضافہ ہوگا جس سے صارفین کے لیے گوشت کی قیمتیں متوازن سطح پر آ جائیں گی۔ تاہم، اس فیصلے کے اعلان کے بعد سے کئی حلقوں میں تجسس پایا جا رہا ہے۔ صدارتی حکم نامے میں اس بات کا تذکرہ نہیں کیا گیا کہ یہ تجارتی معاہدہ کن ممالک کے ساتھ طے پایا ہے یا درآمد کیا جانے والا گراؤنڈ بیف کن خطوں سے امریکہ پہنچایا جائے گا۔ اس مبہم صورتحال کے باعث ماہرینِ معاشیات اور کاروباری حلقے اب تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ عالمی منڈی سے سستا گوشت درآمد کرنے سے مقامی صارفین کو ریلیف ملے گا، جبکہ ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس اقدام سے مقامی مویشی پالنے والے کسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم اور اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے رہے ہیں۔ گوشت کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ امریکی گھرانوں کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈال رہا تھا، جس کے پیشِ نظر انتظامیہ نے یہ ہنگامی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ آنے والے 90 دنوں تک جاری رہنے والی اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ درآمد شدہ گوشت کی بڑی مقدار کس قدر تیزی سے امریکی ریٹیل مارکیٹ کا حصہ بنتی ہے اور آیا اس سے واقعی قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے یا نہیں۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں مزید وضاحتوں کی توقع کی جا رہی ہے۔