LIVE
Loading Breaking News...

اسٹینلی ڈرکن ملر کا الفابیٹ میں بڑا سرمایہ کاری فیصلہ

News Image
نامور سرمایہ کار اسٹینلی ڈرکن ملر نے براڈکام کے حصص فروخت کرکے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ میں 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ اقدام آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں بدلتی ہوئی مارکیٹ ٹرینڈز اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
مشہور سرمایہ کار اور ڈوکسین کیپیٹل کے بانی اسٹینلی ڈرکن ملر نے اپنے سرمایہ کاری کے پورٹ فولیو میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ڈرکن ملر نے براڈکام (Broadcom) کے تمام حصص فروخت کر دیے ہیں اور اس کے بجائے گوگل کی پیرنٹ کمپنی 'الفابیٹ' (Alphabet) میں 120 ملین ڈالر کی بھاری رقم کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ اقدام مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے لیے غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے ٹیک کمپنیوں کے شیئرز میں اتار چڑھاؤ کے باعث بڑے سرمایہ کار اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں۔ اسٹینلی ڈرکن ملر کا یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے مستقبل، خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے میدان میں الفابیٹ کی صلاحیتوں پر گہرا اعتماد رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈرکن ملر نے وارن بفیٹ کی کمپنی 'برکشائر ہتھاوے' کے نقش قدم پر چلتے ہوئے الفابیٹ کی جانب رخ کیا ہے۔ اس سے قبل برکشائر ہتھاوے کی جانب سے بھی ٹیک سیکٹر میں اسی طرح کے ٹرینڈز دیکھے گئے تھے جس نے مارکیٹ کے دیگر بڑے سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا تھا۔ تاہم، یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو بھی نمایاں کرتا ہے جو اے آئی (AI) ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کرنے والے اداروں پر ہے کہ وہ جلد از جلد مثبت مالی نتائج فراہم کریں۔ اگرچہ اے آئی کی ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن سرمایہ کار اب یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ کمپنیاں ان بھاری سرمایہ کاریوں کے بدلے منافع کمانے میں کتنی کامیاب رہتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹینلی ڈرکن ملر جیسے زیرک سرمایہ کار کا براڈکام سے نکل کر الفابیٹ کی طرف آنا، تکنیکی شعبے میں ایک بڑی منتقلی کا اشارہ ہے۔ یہ قدم نہ صرف الفابیٹ کی مارکیٹ ویلیو کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بڑے سرمایہ کار اب ان کمپنیوں کی تلاش میں ہیں جو نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں جدت رکھتی ہیں بلکہ مستقبل میں مستحکم مالی فوائد پہنچانے کی بھی اہلیت رکھتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ بڑی سرمایہ کاری ڈرکن ملر کے لیے کتنی سودمند ثابت ہوتی ہے۔