Education
یونیورسٹیوں میں شعبہ جات کی بندش اور تعلیمی بحران کی حقیقت
موجودہ دور میں یونیورسٹیوں میں ادبی اور تاریخی مضامین کے شعبہ جات کا خاتمہ کسی سازش کا حصہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی اور تعلیمی رجحانات کارفرما ہیں۔ طلباء کی بڑھتی ہوئی دلچسپی عملی اور تکنیکی مضامین کی طرف زیادہ ہے جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو اپنی ترجیحات بدلنا پڑ رہی ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے اعلیٰ تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیوں میں انسانیت اور سماجی علوم (Humanities) کے شعبہ جات کے سکڑنے یا بند ہونے پر بحث جاری ہے۔ بہت سے لوگ اسے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہیں جس کا مقصد تنقیدی سوچ رکھنے والے ذہنوں کو ختم کرنا ہے۔ تاہم، اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ عمل کسی خفیہ منصوبے کا نہیں بلکہ موجودہ تعلیمی اور معاشی حقائق کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ یونیورسٹیوں کا بنیادی مقصد طلباء کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے اور جب مارکیٹ میں کسی خاص ڈگری کی مانگ کم ہو جاتی ہے تو تعلیمی ادارے خود کو محدود کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
قدیم تاریخ، فلسفہ، اور کلاسیکی زبانیں جیسے مضامین انسانی تہذیب کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، مگر آج کے ٹیکنالوجی سے چلنے والے دور میں طلباء کی اکثریت ایسے مضامین کا انتخاب کر رہی ہے جو انہیں جلد روزگار فراہم کر سکیں۔ جب کلاس رومز میں طلباء کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جائے تو کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے ان شعبہ جات کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا مالی طور پر ناممکن ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے پاس محدود وسائل ہوتے ہیں اور وہ انہی پروگراموں پر سرمایہ کاری کو ترجیح دیتی ہیں جن کی طلب زیادہ ہو۔ لہذا، یہ تبدیلی کسی سازش کے بجائے 'فراہمی اور طلب' (Supply and Demand) کے اصولوں پر مبنی ہے۔
اس صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ تعلیمی اداروں کو خود کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا پڑ رہا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں اب مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبہ جات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسانیت اور تاریخ کے علوم کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، بلکہ یہ شعبہ جات اب اپنی شکل بدل رہے ہیں۔ اب ان علوم کو دیگر جدید مضامین کے ساتھ ضم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ طلباء کے لیے ڈگری کی افادیت بڑھے۔
آخر میں، یونیورسٹیوں میں پروگراموں کے سکڑنے کو ایک وسیع تر معاشی حقیقت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ تعلیمی اداروں کی جانب سے بقا کی جنگ ہے تاکہ وہ دیوالیہ ہونے سے بچ سکیں اور طلباء کو جدید دور کے مطابق معیاری تعلیم فراہم کر سکیں۔ ہمیں اس عمل کو سازش کے عینک سے دیکھنے کے بجائے ان تعلیمی حکمت عملیوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ کلاسیکی علوم کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔