LIVE
Loading Breaking News...

نوجوانوں میں معاشی مایوسی اور اس کی وجوہات

News Image
موجودہ عالمی معاشی حالات اور مہنگائی نے نوجوان نسل یعنی جنریشن زی کو شدید مایوسی اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات اور ملازمتوں کے غیر یقینی مواقع نوجوانوں میں ایک بڑی بے چینی کی لہر پیدا کر رہے ہیں۔
موجودہ دور میں 'جنریشن زی' یعنی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوانوں کے معاشی خدشات عالمی سطح پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ سروے رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ نسل معاشی صورتحال کے بارے میں شدید مایوسی کا شکار ہے اور ان کے اندر اپنے مستقبل کے حوالے سے غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس غصے کی بنیادی وجہ وہ معاشی چیلنجز ہیں جن کا سامنا موجودہ دور کے نوجوانوں کو ان کے والدین کی نسل کے مقابلے میں کہیں زیادہ کرنا پڑ رہا ہے۔ رہائشی اخراجات میں ہوشربا اضافہ، تعلیمی قرضوں کا بوجھ، اور ملازمتوں کے مارکیٹ میں سخت مقابلہ وہ اہم عوامل ہیں جو نوجوانوں کو نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ماہرین معاشیات کے مطابق، نوجوانوں میں اس غصے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاشی ترقی کے فوائد ان تک نہیں پہنچ رہے۔ ماضی کی دہائیوں میں جو معاشی استحکام متوسط طبقے کو میسر تھا، آج وہ خواب جیسا محسوس ہوتا ہے۔ مکانات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جبکہ تنخواہیں مہنگائی کی شرح کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ اس صورتحال نے نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا محنت اور تعلیم کے باوجود وہ کبھی معاشی خود انحصاری حاصل کر سکیں گے یا نہیں۔ یہ احساسِ محرومی ان کے سیاسی اور سماجی رویوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ مزید برآں، 'گِگ اکانومی' اور کانٹریکٹ بیس ملازمتوں کے رواج نے بھی نوجوانوں کے معاشی تحفظ کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بہت سے نوجوانوں کے پاس مستقل ملازمتیں نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ طویل مدتی مالی منصوبہ بندی کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ غیر یقینی صورتحال ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی نے ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ مقابلہ بھی عالمی سطح کا ہو گیا ہے، جس کے باعث نوجوانوں کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے مسلسل دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نوجوانوں کا یہ غصہ محض ایک شکایت نہیں بلکہ ایک گہری معاشی حقیقت کی عکاسی ہے۔ حکومتوں اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ اس نسل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے ٹھوس اقدامات کریں جن سے ان کے لیے روزگار کے بہتر مواقع اور سستی رہائش کی سہولیات میسر آ سکیں۔ اگر ان خدشات کو دور نہ کیا گیا تو یہ معاشی بے چینی سماجی ڈھانچے کے لیے مزید مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست سمت دینے کے لیے ایک جامع معاشی پالیسی کا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔