LIVE
Loading Breaking News...

بائیو کمپیوٹرز کا دور: بیکٹیریا سے تیار کردہ ٹرانزسٹرز کی ایجاد

News Image
سائنسدانوں نے پہلی بار زندہ بیکٹیریا کے استعمال سے ٹرانزسٹر تیار کر لیے ہیں جو معلومات کی ترسیل کے قابل ہیں۔ یہ تحقیق بائیو ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سائنس کے ملاپ سے ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ٹرانزسٹرز پر رکھی گئی ہے جو معلومات کو پروسیس کرنے اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں پہلی بار سائنسدانوں نے ایک ایسا ٹرانزسٹر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مصنوعی مواد کے بجائے زندہ بیکٹیریا سے تشکیل پایا ہے۔ یہ ایجاد بائیو ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس کے سنگم پر ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اب تک ٹرانزسٹرز صرف سلیکون یا دھاتی پرزوں سے بنائے جاتے رہے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ زندہ ٹرانزسٹرز روایتی سلیکون ٹرانزسٹرز کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہیں، لیکن ان کی کارکردگی اور معلومات کو محفوظ کرنے کی صلاحیت ان کو مستقبل کے بائیو کمپیوٹرز کے لیے موزوں بناتی ہے۔ اس تحقیق کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ قدرت نے اربوں سالوں سے جانداروں کے خلیات کے اندر معلومات کی ترسیل کا جو نظام قائم کر رکھا ہے، اسے اب مصنوعی طور پر ٹیکنالوجی میں ڈھالا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں نے بیکٹیریا کے جینیاتی مواد اور ان کے اندر موجود پروٹینز کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ وہ بجلی کے سگنلز کو کنٹرول کر سکیں۔ یہ عمل بنیادی طور پر ایک زندہ 'سوئچ' کے طور پر کام کرتا ہے، جو معلومات کو روکنے یا آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت مستقبل میں ایسے کمپیوٹرز بنانا ممکن ہو سکے گا جو خود کو مرمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے یا جو حیاتیاتی ماحول میں بہتر طریقے سے کام کر سکیں گے۔ اگرچہ ابھی یہ ٹیکنالوجی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے تجارتی پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے، لیکن ماہرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل مصنوعی ذہانت اور سلیکون چپس پر انحصار کیا جاتا تھا، لیکن اب ایک ایسا راستہ کھل گیا ہے جہاں مشینیں اور جاندار خلیات ایک ساتھ مل کر کام کر سکیں گے۔ ان زندہ ٹرانزسٹرز کی رفتار فی الحال سست ہے، لیکن ان کی پائیداری اور توانائی کی کم کھپت اسے مستقبل کی پائیدار ٹیکنالوجی کے لیے ایک بہترین انتخاب بناتی ہے۔ نیکسورا نیوز کے قارئین کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے برسوں میں بائیو کمپیوٹرز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں جس کی شروعات ان زندہ ٹرانزسٹرز سے ہو چکی ہے۔