Business
مہنگائی کا اثر: یوٹیلیٹی بل اور کرائے ادا کرنے کے لیے قسطوں کا استعمال
امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث صارفین گھر کے کرایوں اور بجلی و گیس کے بلوں کی ادائیگی کے لیے قسطوں والی ایپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان قرضوں کے ایک نئے اور خطرناک جال کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
امریکہ سمیت دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی عدم استحکام نے عام آدمی کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ایک وقت تھا جب کریڈٹ کارڈز کا استعمال صرف لگژری اشیاء یا بڑی خریداریوں تک محدود تھا، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالیاتی ٹیکنالوجی (Fintech) کے نئے ذرائع کا سہارا لے رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، امریکہ میں شہری اب گھر کے کرایوں اور بجلی و گیس کے ماہانہ بلوں کی ادائیگی کے لیے 'کلارنا' (Klarna) جیسی 'ابھی خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں' (BNPL) ایپس کا استعمال کر رہے ہیں، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ معاشی صورتحال کس قدر سنگین ہو چکی ہے۔
ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ یہ رجحان انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ پہلے یہ سہولیات صرف لباس، الیکٹرانکس یا تفریحی اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال ہوتی تھیں، مگر اب ان کا رخ یوٹیلیٹی بلوں کی طرف مڑ گیا ہے۔ جب لوگ اپنے بنیادی اخراجات کے لیے قرض پر منحصر ہونے لگتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی قوت خرید انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ قسطوں پر بل ادا کرنے سے صارفین وقتی طور پر تو ریلیف محسوس کرتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ خود کو قرضوں کے ایک ایسے چکر میں دھکیل رہے ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی یہ 'جدت' دراصل ایک چھپے ہوئے بحران کو ظاہر کرتی ہے۔ بہت سے صارفین یہ نہیں سمجھتے کہ قسطوں پر ادائیگی نہ کرنے یا تاخیر ہونے کی صورت میں انہیں بھاری جرمانے اور اضافی سود ادا کرنا پڑ سکتا ہے، جو ان کی مالی حالت کو مزید خراب کر دیتا ہے۔ اگرچہ کلارنا جیسی کمپنیاں اسے صارفین کی سہولت قرار دیتی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ مالیاتی کمپنیاں لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اگر مہنگائی کی موجودہ لہر اسی طرح جاری رہی، تو مستقبل قریب میں بہت سے خاندان سنگین مالی دیوالیہ پن کا شکار ہو سکتے ہیں۔
حکومتوں اور مالیاتی اداروں کو اس صورتحال کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ صرف ڈیجیٹل ایپس کے ذریعے قرض کی فراہمی معیشت کو مستحکم نہیں کر سکتی، بلکہ اس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ صارفین کو بھی مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مالی منصوبہ بندی میں احتیاط برتیں اور ایسے قرضوں کے جال سے بچنے کی کوشش کریں جو ان کی طویل مدتی معاشی آزادی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔