LIVE
Loading Breaking News...

تارکین وطن خواتین اور گھریلو تشدد کے چیلنجز

News Image
روایتی پس منظر سے تعلق رکھنے والی تارکین وطن خواتین کو گھریلو تشدد کے خلاف آواز اٹھانے میں شدید سماجی اور نفسیاتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان خواتین کی مدد کے لیے انہیں قانونی تحفظ اور سماجی معاونت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔
دنیا بھر میں بہت سی تارکین وطن خواتین کو جب وہ نئے ممالک میں آباد ہوتی ہیں، تو انہیں دوہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو روایتی اور مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں، یہ تصور گہرا ہوتا ہے کہ ایک 'اچھی' عورت وہی ہے جو ہر حال میں خاندان کو جوڑے رکھے۔ اس دقیانوسی سوچ کے باعث بہت سی خواتین خاموشی سے تشدد اور بدسلوکی برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، کیونکہ انہیں سکھایا جاتا ہے کہ خاندان کی عزت اور وقار ان کی اپنی تکلیف سے زیادہ اہم ہے۔ اس طرح کی ثقافتی اقدار انہیں مدد مانگنے سے روکتی ہیں اور وہ اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب ایک خاتون تارکِ وطن ہوتی ہے، تو اس کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اسے زبان کی رکاوٹ، قانونی پیچیدگیوں، اور اپنے میزبان ملک کے نظام سے ناواقفیت کا سامنا ہوتا ہے۔ کئی بار انہیں یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے شوہر یا ساتھی کی بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھائی، تو شاید ان کا ویزا منسوخ ہو جائے گا یا انہیں اپنے بچوں سے الگ کر دیا جائے گا۔ یہی خوف انہیں پرتشدد رشتوں میں قید رکھنے کا باعث بنتا ہے۔ اس کے علاوہ، کمیونٹی کا دباؤ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے جہاں خواتین کو 'خاندان کی ناک کٹنے' کے نام پر خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ان خواتین کو محفوظ محسوس کرنے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے نہ صرف قانونی مدد کی ضرورت ہے بلکہ ایسی سماجی معاونت کی بھی ضرورت ہے جو ان کی ثقافتی حساسیت کو سمجھتے ہوئے انہیں بااختیار بنائے۔ معاشرے اور حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو ان تارکین وطن خواتین کو یہ احساس دلائیں کہ قانون ان کے ساتھ ہے اور وہ اپنی زندگی کو محفوظ بنانے کا حق رکھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ان خواتین کے لیے کونسلنگ، مفت قانونی مشاورت، اور پناہ گاہوں تک آسان رسائی ان کے تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ جب تک ہم ان خواتین کو یہ یقین نہیں دلاتے کہ ان کی جان اور وقار سب سے مقدم ہے، تب تک گھریلو تشدد کے اس گھن چکر کو توڑنا مشکل رہے گا۔ سماج کو بھی اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی عورت محض سماجی دباؤ کی وجہ سے تشدد کو اپنی تقدیر نہ سمجھ لے۔