Technology
ای بائیکس کا بڑھتا ہوا رجحان: محفوظ انفراسٹرکچر کے ذریعے کاروں کو الوداع
آسٹریلیا سمیت دنیا بھر میں ای بائیکس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ لوگ ماحول دوست سواری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق، اگر سڑکوں پر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے بہتر انفراسٹرکچر موجود ہو تو لوگ کار کا استعمال چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔
آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں اب لوگ تیزی سے اپنی چار پہیوں والی گاڑیوں کو چھوڑ کر دو پہیوں والی ای بائیکس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ حکومتیں نہ صرف سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں بلکہ ای بائیکس پر سبسڈی دینے کے مطالبات بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ تازہ ترین تحقیقی مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ای بائیکس کی مانگ میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ان کا ماحول دوست ہونا اور روزمرہ کے سفر کو آسان بنانا ہے۔ تاہم، یہ منتقلی تب تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ عام شہریوں کو سڑکوں پر خود کو محفوظ محسوس نہ ہو۔ تحقیق کے مطابق، زیادہ تر لوگ ای بائیک اس وقت استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں جب انہیں ٹریفک کے درمیان اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے محفوظ سائیکل ٹریکس اور ٹریفک قوانین کا نفاذ اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ایک اور اہم پہلو صارفین کا اعتماد ہے۔ جب سڑکیں کشادہ ہوں گی اور سائیکل سواروں کے لیے الگ لین مختص کی جائیں گی، تو عام آدمی بغیر کسی خوف کے کار کے متبادل کے طور پر ای بائیک کا انتخاب کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف سبسڈی دینا کافی نہیں ہے بلکہ شہروں میں ایسی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے جس سے سائیکل سواروں کو کاروں کے ساتھ الجھنا نہ پڑے۔ اگر حکومتیں اور شہری منصوبہ ساز سڑکوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دیں، تو کاروں کی تعداد میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل حل ہوں گے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ مجموعی طور پر، ای بائیک کا رجحان ایک پائیدار مستقبل کی ضمانت ہے، بشرطیکہ اس کے لیے درکار بنیادی ضروریات اور تحفظ کا احساس شہریوں کو فراہم کیا جائے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید ترقی کر رہی ہے، ای بائیکس کی بیٹری کی صلاحیت اور رفتار میں بہتری آئی ہے، جس سے طویل فاصلے طے کرنا بھی ممکن ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب دفاتر جانے والے افراد بھی اپنی کاروں کو گھر پر چھوڑ کر ای بائیک کو ترجیح دینے لگے ہیں، جو کہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔