World
دہشت گردی کے متاثرین کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر نئے اقدامات
بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو انٹرنیٹ پر درپیش منفی اثرات اور پروپیگنڈے سے بچانے کے لیے ایک خصوصی اقدام کا آغاز کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ متاثرین کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ہراساں ہونے سے روکنا ضروری ہے۔
اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کو ڈیجیٹل دنیا میں درپیش خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نئے اور اہم اقدام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ان افراد کی آن لائن زندگی کو محفوظ بنانا ہے، جنہیں اکثر دہشت گردی کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر ہراساں کیا جاتا ہے یا ان کی تصاویر اور ذاتی معلومات کو پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر متاثرین کو جس طرح کے ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسے روکنا اب عالمی ایجنڈے کا حصہ بن چکا ہے۔
پاکستان نے بھی اس موقع پر دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اس عالمی اقدام کی تائید کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے اور پاکستان اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔ یاد رہے کہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے متاثرین کی یاد میں منائے جانے والے دن کے موقع پر پاکستان کی قیادت نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے آن لائن دنیا میں متاثرین کے وقار کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان قربانیاں دینے سے گریز نہیں کرے گا، چاہے وہ میدان جنگ ہو یا ڈیجیٹل محاذ۔
یہ نیا اقدام نہ صرف متاثرین کو تکنیکی مدد فراہم کرے گا بلکہ انہیں آن لائن نفرت انگیز مواد اور دھمکی آمیز پیغامات سے بچانے کے لیے مختلف سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سیکیورٹی صرف زمینی حد تک محدود نہیں رہ سکتی، بلکہ آن لائن دنیا میں متاثرین کی عزتِ نفس کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسمانی تحفظ۔ عالمی برادری امید کر رہی ہے کہ اس اقدام سے متاثرین کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے اور انٹرنیٹ کو بغیر کسی خوف کے استعمال کرنے میں مدد ملے گی۔