World
مکہ ڈیفنس پیکٹ اور بنگلہ دیش: بھارت کی تشویش اور عالمی صورتحال
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے مکہ ڈیفنس پیکٹ میں شامل ہونے کے حوالے سے پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس دفاعی معاہدے کے حوالے سے خطے میں مختلف حلقوں کی جانب سے بحث اور تجزیے جاری ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ نے حال ہی میں بنگلہ دیش کی جانب سے مبینہ طور پر 'مکہ ڈیفنس پیکٹ' میں شمولیت کی خواہش کے اظہار پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کے دفاعی اتحادوں اور سیکیورٹی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ بھارتی حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی نئے عسکری اتحاد کے نتائج خطے کے توازن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر بھارت تمام تر زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
مکہ ڈیفنس پیکٹ کے حوالے سے جاری ہونے والی مختلف رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اتحاد خلیجی ممالک اور دیگر اسلامی ریاستوں کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے تجزیہ کاروں کے درمیان گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جہاں کچھ مبصرین اسے خطے میں استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، وہیں کچھ حلقے اسے بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نیا چیلنج سمجھتے ہیں۔ انڈین جنرلز اور دیگر فوجی ماہرین نے اس پیش رفت کو اپنی سیکیورٹی ترجیحات کے تناظر میں ایک حساس معاملہ قرار دیا ہے، جس کے اثرات طویل مدت تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب، سعودی عرب اور ترکی جیسے ممالک کا اس دفاعی ساخت میں کردار، خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں، ایک بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ عالمی میڈیا اور مختلف جریدوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا مکہ پیکٹ خطے کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرے گا یا پھر یہ پہلے سے موجود سرد جنگ جیسی صورتحال کو مزید ہوا دے گا۔ بھارت، جو اپنی خارجہ پالیسی میں خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس بات کا محتاط اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس اتحاد کے اندر بنگلہ دیش کی شمولیت کس حد تک بھارت کے مفادات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
فی الحال، بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاہدے میں شمولیت کے حوالے سے حتمی سرکاری تصدیق کا انتظار ہے، لیکن سفارتی حلقوں میں یہ موضوع بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی ایسی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو علاقائی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا یہ اتحاد ایک رسمی دفاعی بلاک کی شکل اختیار کرے گا یا یہ صرف ایک سفارتی تعاون تک محدود رہے گا۔ تب تک کے لیے، نئی دہلی، ڈھاکا اور دیگر متعلقہ دارالحکومتوں کے درمیان سفارتی رابطے اور سیکیورٹی خدشات کا تبادلہ جاری رہے گا۔