World
بولیویا کا سیاسی بحران: صدر روڈریگو پاز نے وزیر خزانہ کو ہٹا دیا
بولیویا کے صدر روڈریگو پاز نے پارلیمنٹ کی جانب سے تنقید اور شدید عوامی احتجاج کے بعد وزیر خزانہ ہوزے گیبریل ایسپینوزا کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں جاری معاشی بحران اور اصلاحات کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
جنوبی امریکی ملک بولیویا میں سیاسی اور معاشی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ صدر روڈریگو پاز نے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے اپنے وزیر خزانہ ہوزے گیبریل ایسپینوزا کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں حکومتی معاشی اصلاحات کے خلاف شدید ردعمل پایا جاتا ہے اور پارلیمنٹ کی جانب سے بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی جا رہی تھی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ کو پارلیمنٹ کی جانب سے سنسر کیے جانے کے چند روز بعد ہی عہدے سے ہٹایا گیا ہے، جو صدر پاز کی انتظامیہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔
ملک میں جاری معاشی بے یقینی اور افراطِ زر کے باعث عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر ایسی پالیسیاں وضع کرے جس سے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر خزانہ کی برطرفی دراصل صدر روڈریگو پاز کی ایک کوشش ہے تاکہ پارلیمنٹ اور عوام کے غصے کو کسی حد تک ٹھنڈا کیا جا سکے اور حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچایا جا سکے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا نیا وزیر خزانہ ملک کی ڈگمگاتی معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب ہو پائے گا یا یہ فیصلہ محض وقتی سیاسی حربہ ثابت ہوگا۔
حزب اختلاف نے اس پیش رفت کو حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صرف وزیر کو بدلنے سے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بولیویا کی پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی بنیادی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو مبینہ طور پر ملک کو معاشی تنزلی کی طرف لے جا رہی ہیں۔ صدر روڈریگو پاز اب ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں جہاں انہیں ایک طرف معاشی استحکام لانا ہے تو دوسری طرف سیاسی حریفوں کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں بولیویا کی سیاسی صورتحال مزید واضح ہو جائے گی کہ آیا صدر پاز اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتے ہیں یا انہیں مزید بڑے فیصلوں کی ضرورت پڑے گی۔