LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی جانب سے امدادی قافلے پر حملے کی تحقیقات بند کرنا شرمناک ہے: مغربی ممالک

News Image
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن کے قافلے پر حملے کی تحقیقات بند کرنے کے اسرائیلی فیصلے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ مغربی ممالک کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔
غزہ میں انسانی امداد پہنچانے والے عالمی ادارے 'ورلڈ سینٹرل کچن' کے قافلے پر گزشتہ برس ہونے والے مہلک حملے کی تحقیقات کو اسرائیلی حکام کی جانب سے اچانک ختم کرنے کے فیصلے پر مغربی دنیا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے اس اقدام کو نہ صرف ناقابل قبول بلکہ 'شرمناک' قرار دیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کئی امدادی کارکنوں کی جانیں ضائع ہوئیں، اور اس معاملے کو بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے بند کرنا بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کے منافی ہے۔ مغربی رہنماؤں کے مطابق، اسرائیل کا یہ یکطرفہ فیصلہ انصاف کی فراہمی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اور اس سے امدادی کارکنوں کی سیکیورٹی پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر اس حملے کو ایک سنگین غلطی تسلیم کیا تھا، تاہم تحقیقات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کے بجائے اسے بند کر دینے سے عالمی سطح پر تلخ ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانوی اور کینیڈین وزرائے خارجہ نے اپنے بیانات میں واضح کیا ہے کہ امدادی قافلوں پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتے اور ان واقعات کے ذمہ داران کا تعین ہونا ضروری ہے۔ عالمی برادری کا موقف ہے کہ جب تک ان حملوں میں ملوث افراد کا احتساب نہیں ہوگا، تب تک غزہ میں انسانی امداد کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا انتہائی خطرناک بنا رہے گا، جس سے پہلے ہی قحط اور خوراک کی قلت کے شکار فلسطینی عوام مزید مشکلات کا شکار ہوں گے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی اسرائیل کے اس رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے تحقیقات کی بندش اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے اقدامات پر عالمی جوابدہی سے بچنا چاہتا ہے۔ عالمی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو وہ غزہ میں اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے غزہ کا انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ اب دنیا بھر کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا مغربی ممالک اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالیں گے تاکہ اس واقعے کی دوبارہ سے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا آغاز کیا جا سکے یا پھر یہ معاملہ محض ایک اور متنازعہ کارروائی بن کر تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے گا۔