Business
3M دھماکہ کیس: رپورٹ لکھنے کے لیے AI ٹول کا استعمال، ماہر گواہ تنازعہ میں
ایک ماہر گواہ نے ہیوسٹن میں ہونے والے جان لیوا دھماکے کے مقدمے میں 3M کمپنی کا دفاع کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹول چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا۔ اس ماہر نے رپورٹ کی تیاری کے بدلے نوے ہزار ڈالر کی بھاری فیس وصول کی۔
ہیوسٹن میں رونما ہونے والے ایک ہولناک دھماکے، جس میں تین افراد کی جان چلی گئی تھی، سے متعلق قانونی مقدمے میں ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے قانونی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ معروف کمپنی تھری ایم (3M) کی جانب سے عدالت میں پیش کیے گئے ایک ماہر گواہ نے اپنے بیان حلفی اور تفصیلی رپورٹ کی تیاری کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹول ’چیٹ جی پی ٹی‘ کا بھرپور استعمال کیا۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب مقدمے کی کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ ماہر گواہ نے نوے ہزار ڈالر کی بھاری فیس وصول کرنے کے باوجود رپورٹ کا زیادہ تر حصہ خود تحریر کرنے کے بجائے اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا۔
عدالتی دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ماہر گواہ کمپنی کی جانب سے تکنیکی تجزیہ فراہم کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا، تاکہ دھماکے کے وجوہات اور کمپنی کی ذمہ داری کے حوالے سے عدالت کو گمراہ کیا جا سکے یا حقائق کو کمپنی کے حق میں پیش کیا جا سکے۔ تاہم، جب یہ بات سامنے آئی کہ رپورٹ کا بڑا حصہ اے آئی کے ذریعے تخلیق کیا گیا ہے، تو عدالت میں موجود وکلاء اور جج نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز اکثر اوقات حقائق کو درست انداز میں پیش کرنے سے قاصر ہوتے ہیں اور قانونی دستاویزات میں ان کا استعمال سنگین نوعیت کے اخلاقی اور پیشہ ورانہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
تھری ایم کی جانب سے اس واقعے پر فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اس واقعے نے قانونی ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا مستقبل میں عدالتی کارروائیوں کے دوران اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کردہ رپورٹس کو قابلِ قبول سمجھا جانا چاہیے یا نہیں۔ یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال جہاں سہولت فراہم کر رہا ہے، وہیں قانونی ذمہ داری اور جوابدہی کے حوالے سے بھی شدید خطرات پیدا کر رہا ہے۔ اس معاملے پر قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کسی ماہر گواہ نے اپنا کام خود نہیں کیا تو اس کی گواہی کی قانونی حیثیت ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ عدالت کو ایک مستند اور ذاتی رائے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ ایک مشین کے تیار کردہ ڈیٹا کی۔
آئندہ سماعتوں میں یہ بات طے کی جائے گی کہ کیا اس رپورٹ کو عدالت کے ریکارڈ سے حذف کیا جائے گا یا اس پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعے کے بعد سے مختلف قانونی فورمز پر بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ ماہر گواہوں کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کن حدود کا پابند کیا جانا چاہیے۔ یہ مقدمہ نہ صرف 3M کمپنی کے لیے بلکہ پورے عدالتی نظام کے لیے ایک امتحان ثابت ہو رہا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی انسانی مہارت کی جگہ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔