LIVE
Loading Breaking News...

ایران کو چینی میزائلوں کی فراہمی، چین کا ردعمل

News Image
حال ہی میں میڈیا میں یہ رپورٹس زیرِ گردش تھیں کہ ایران کو آئندہ چند ہفتوں میں چین سے سینکڑوں فضائی دفاعی نظام ملنے والے ہیں۔ تاہم چین نے ان تمام خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں حالیہ دنوں میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کو آئندہ چند ہفتوں کے اندر چین سے کندھے سے فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی نظام فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ کھیپ جلد تہران منتقل کی جائے گی، جس نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا تھا۔ اس مبینہ ڈیل کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے مشرق وسطیٰ کے جیو پولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان تمام خبروں اور دعوؤں کے جواب میں چین کی طرف سے باضابطہ تردید سامنے آ گئی ہے۔ چینی حکام اور متعلقہ اداروں نے ان میڈیا رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر بے بنیاد قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ خطے کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کی ایک سازش ہو سکتی ہیں۔ چین نے ہمیشہ خطے میں تعمیری کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے اور وہ اپنے دفاعی تعاون کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔ دوسری جانب اس پورے معاملے میں پاکستان کی مبینہ سہولت کاری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، جن پر اسلام آباد کی طرف سے بھی مناسب سفارتی ردعمل اور وضاحتیں سامنے آ چکی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں اس قسم کی اطلاعات خطے میں مزید تناؤ پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آئندہ دنوں میں خطے کے تعلقات پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے۔