LIVE
Loading Breaking News...

شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کا تجربہ اور امریکی ردعمل

News Image
شمالی کوریا نے امریکہ کی جانب سے فوجی مشقیں محدود کرنے کے چند دن بعد ہی مشرق کی جانب تقریباً دس بیلسٹک میزائل فائر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کو خطے میں جاری کشیدگی میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
شمالی کوریا نے ایک بار پھر اپنی عسکری قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرق کی جانب تقریباً دس مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے مابین سیکیورٹی تعاون اور فوجی مشقوں کو لے کر پہلے ہی کافی بحث جاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ میزائل مقامی وقت کے مطابق فائر کیے گئے اور انہوں نے اپنے ہدف کی طرف پرواز مکمل کی۔ ان میزائلوں کے تجربے نے ایک بار پھر جزیرہ نما کوریا کی صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے، جس پر عالمی طاقتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس میزائل تجربے کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ یہ عمل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو محدود کرنے کے اعلان کے چند دن بعد کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا اس اقدام کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا چاہتا ہے اور ممکنہ طور پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماضی میں بھی شمالی کوریا کی جانب سے ایسے تجربات امریکی پالیسیوں پر ردعمل کے طور پر دیکھے جاتے رہے ہیں، جس کا مقصد واشنگٹن کو مذاکرات کی میز پر اپنی شرائط منوانے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس میزائل فائرنگ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی اور جنوبی کوریائی حکام نے فوری طور پر اپنے انٹیلیجنس نظام کو فعال کر دیا ہے تاکہ میزائلوں کی درست نوعیت اور ان کے اہداف کا تعین کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ میزائل طویل فاصلے کے حامل نہیں تھے، تاہم ان کی تعداد اور بروقت فائرنگ نے خطے کے ممالک کی سلامتی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی برادری ایک بار پھر شمالی کوریا سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ اپنے اشتعال انگیز اقدامات کو روک کر امن کی بحالی کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی طرف لوٹے۔ مستقبل کے حوالے سے اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی انتظامیہ اس صورتحال پر کیا ردعمل دیتی ہے۔ کیا صدر ٹرمپ اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی لائیں گے یا پھر وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مزید سفارتی راستے اختیار کریں گے، یہ ایک اہم سوال بن چکا ہے۔ فی الحال خطے میں صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے اور تمام متعلقہ ممالک ہائی الرٹ پر ہیں، تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ شمالی کوریا کی طرف سے میزائلوں کی یہ تازہ کھیپ اس بات کی علامت ہے کہ جزیرہ نما کوریا کا بحران ابھی تک حل طلب ہے اور اس کے لیے ایک جامع طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔