World
تونس میں صدر قیس سعید کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور استعفے کا مطالبہ
دارالحکومت تونس میں سینکڑوں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر صدر قیس سعید کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی مسائل اور سیاسی جمود سے نجات کے لیے نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
تونس کے دارالحکومت تونس میں جمعرات کے روز سینکڑوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر موجودہ حکومت اور صدر قیس سعید کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ حکومت مخالف نعرے بازی کر رہے تھے، جن میں صدر قیس سعید سے فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت شدید ترین معاشی اور سیاسی بحران کا سامنا ہے جس کی ذمہ داری موجودہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
مظاہرے کے دوران سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری دارالحکومت کے اہم مقامات پر تعینات کی گئی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ اگرچہ احتجاج پرامن رہا تاہم شرکاء نے حکومت کی پالیسیوں بالخصوص بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کے فقدان پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری عمل کو محدود کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کی مشکلات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ تونس میں پچھلے کچھ عرصے سے سیاسی کشمکش اور معاشی بدحالی کا سلسلہ جاری ہے، جس نے عامتہ الناس کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، عوامی سطح پر بڑھتا ہوا یہ عدم اطمینان حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ صدر قیس سعید نے اس سے قبل ملک میں استحکام کے نام پر کئی اختیارات اپنے پاس مرتکز کیے تھے، لیکن اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے ان اقدامات کو آمرانہ قرار دے کر مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس حالیہ احتجاج نے ایک بار پھر تونس کی سیاسی صورتحال کو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے عوام کے معاشی مطالبات اور سیاسی تحفظات کو سنجیدگی سے نہ حل کیا تو آنے والے دنوں میں احتجاج کی یہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ تونس کے عوام اب تبدیلی اور ایک ایسی شفاف حکومت کے خواہاں ہیں جو ملک کو اس معاشی دلدل سے باہر نکال سکے۔