LIVE
Loading Breaking News...

صومالیہ میں قحط کا خطرہ: اقوام متحدہ کی جانب سے ہنگامی امداد کی اپیل

News Image
اقوام متحدہ نے صومالیہ میں بھوک کے بڑھتے ہوئے بحران اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو درپیش خطرات کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی ادارہ انسانی امداد کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے حال ہی میں صومالیہ کے حوالے سے ایک انتہائی سنگین رپورٹ جاری کی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ملک ایک بار پھر ایک بڑے انسانی بحران اور قحط کی لپیٹ میں ہے۔ برسوں سے جاری تنازعات، سیاسی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث صومالیہ کی بڑی آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہو چکی ہے، جس سے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے بروقت مداخلت نہ کی تو یہ صورتحال ایک انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ صومالیہ میں جاری یہ بحران بنیادی طور پر خوراک کی شدید قلت اور صاف پانی کی عدم دستیابی سے جڑا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق، خاص طور پر خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جنہیں غذائی قلت کے باعث سنگین بیماریوں کا سامنا ہے۔ خشک سالی نے زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے مویشی مر رہے ہیں اور دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بے گھر ہونے والے ان افراد کے لیے خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی تنظیمیں اب ایک ہنگامی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہیں تاکہ قحط کو روکا جا سکے۔ تاہم، فنڈز کی کمی اور سکیورٹی کے مسائل ان امدادی کارروائیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر امدادی رقم اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنائے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ یہ صورتحال صرف صومالیہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے کہ آیا وہ ایک ابھرتی ہوئی انسانی تباہی کو روکنے کے لیے متحد ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ آنے والے ہفتے صومالیہ کے عوام کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔ اگر امدادی سامان کی بروقت ترسیل ممکن نہ ہوئی تو بیماریوں کا پھیلنا اور بھوک سے اموات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور صرف ہنگامی اقدامات ہی اس ملک کو تباہی کے دھانے سے واپس لا سکتے ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی کارکنوں نے حکومت اور عسکری گروہوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ امدادی ٹیموں کو بحفاظت متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کا موقع فراہم کریں۔