LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان

News Image
وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3.81 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.59 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول 341.59 روپے اور ڈیزل 368.29 روپے فی لیٹر فروخت ہوگا۔
وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں جاری کشیدگی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3.81 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 3.59 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 341.59 روپے اور ڈیزل کی قیمت 368.29 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی بلند سطح پر ہے اور عوام پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تناؤ کے باعث عالمی منڈی میں ایندھن کی سپلائی میں خلل کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں ردوبدل ناگزیر ہو گیا ہے۔ پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک نے واضح کیا ہے کہ اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی منڈی کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی ذمہ داری آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو سونپی گئی ہے۔ اس سے قبل قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر نظر ثانی کی جا رہی تھی۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی معیشت میں ریونیو کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ پیٹرول کا استعمال زیادہ تر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں ہوتا ہے، جس سے براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کا بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ سیکٹر اور پاور پلانٹس میں استعمال ہوتا ہے، جس کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ماضی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اپریل کے مہینے میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی تھیں، جس کے بعد حکومت نے ٹارگٹڈ ریلیف دینے کے اقدامات کا اعلان بھی کیا تھا۔ ملکی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایندھن کی قیمتوں کے تعین کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ عام آدمی پر یکدم بوجھ نہ پڑے۔ اگرچہ عالمی حالات کے پیش نظر قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے، لیکن ٹیکسز کے بوجھ کو کم کرنا اور سبسڈی کو شفاف بنانا ضروری ہے تاکہ غریب طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حکومت کی جانب سے ایندھن کے تحفظ (فیول کنزرویشن) کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کے پیٹرولیم ذخائر کو بہتر طریقے سے استعمال میں لایا جا سکے۔