LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف عوامی رجحانات میں تبدیلی

News Image
ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے عوامی حمایت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ریپبلکن، ڈیموکریٹک اور آزاد ووٹرز سمیت تمام حلقوں میں اس حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کا قیام ایک اہم موضوع بن چکا ہے، تاہم حال ہی میں منظر عام پر آنے والے ایک سروے کے نتائج نے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایمبولڈ ریسرچ (Embold Research) کی جانب سے کی گئی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ امریکہ میں ریپبلکن، ڈیموکریٹک اور آزاد حیثیت رکھنے والے ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اب اپنے علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے حق میں نہیں ہے۔ سروے کے مطابق اس اہم ٹیکنالوجیکل انفراسٹرکچر کے لیے عوامی حمایت میں ریکارڈ سطح پر گراوٹ دیکھی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عام شہریوں میں اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے تحفظات بڑھ رہے ہیں۔ ہیٹ میپ پرو (Heatmap Pro) کی جانب سے شائع کردہ ان اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی غیر معمولی ہے۔ سروے میں شامل 75 فیصد سے زائد جواب دہندگان نے اس بات پر خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر مقامی وسائل، خاص طور پر بجلی کی کھپت اور پانی کے استعمال پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے درکار بے پناہ کمپیوٹنگ پاور کی وجہ سے ان سینٹرز کی بجلی کی کھپت میں جو ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اس نے مقامی آبادی کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ان مراکز کا قیام ان کے اپنے علاقوں کے لیے سودمند ہے یا نہیں۔ اس سروے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ عوامی حمایت میں یہ کمی کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ووٹرز تک محدود نہیں ہے، بلکہ سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر تمام طبقات اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی انقلاب کو جاری رکھنے کے لیے مزید ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر زور دے رہی ہیں، وہیں دوسری طرف عوامی رائے کا یہ بدلتا رخ منصوبہ سازوں کے لیے چیلنج بن چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیٹا سینٹرز کے ماحولیاتی اور مقامی اثرات کو شفاف طریقے سے حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں ان منصوبوں کو مقامی سطح پر سخت عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ نتائج ثابت کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بڑے دعووں کے باوجود اب عوام بنیادی سہولیات اور اپنے اردگرد کے ماحول کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ عوام اس بات کے حق میں ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایسی حکمت عملی اپنائی جائے جو مقامی باشندوں کے معیار زندگی کو متاثر نہ کرے۔ آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے مزید شفافیت اور پائیدار حل لانے کی ضرورت ہوگی تاکہ ان ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔