World
یورپ میں امریکی فوج کا ڈرون یونٹ بند کرنے کا فیصلہ
امریکی فوج نے یورپ میں تعینات اپنی اس خصوصی یونٹ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو جدید ڈرون ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی۔ اس اقدام کے بعد یہ یونٹ اپنی روایتی عسکری ذمہ داریوں کی طرف واپس لوٹ آئے گی۔
واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے ایک اہم اور غیر متوقع فیصلہ کیا ہے جس کے تحت یورپ میں ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید ڈرون وارفیئر کے شعبے میں مہارت حاصل کرنے والی ایک خصوصی یونٹ کو بند کیا جا رہا ہے۔ یہ یونٹ طویل عرصے سے میدان جنگ میں ڈرون کے استعمال، ان کے ذریعے نگرانی اور دیگر دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر کام کر رہی تھی۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ اب یہ یونٹ ڈرون سے متعلق اپنی موجودہ تحقیقی اور تربیتی سرگرمیوں کو ختم کر کے واپس اپنے روایتی عسکری کردار کی طرف لوٹ آئے گی۔
اس فیصلے کو عسکری حلقوں میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ یونٹ خاص طور پر جدید میدان جنگ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی تھی، جس کا مقصد یورپ میں ڈرون حملوں اور جاسوسی کے جدید طریقوں کو اپنانا تھا۔ تاہم، انتظامی تبدیلیوں اور ترجیحات کے تعین کے بعد اب فوج نے اپنے وسائل کو دیگر شعبوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ڈرون ٹیکنالوجی کے حوالے سے امریکی فوج کی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ یورپی خطے میں فوجی تیاریوں کے حوالے سے نئے مقاصد طے کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال جنگی میدان میں ایک فیصلہ کن عنصر بن کر ابھرا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر کی فوجیں ڈرون وارفیئر میں خود کو جدید سے جدید تر بنانے کی دوڑ میں شامل ہیں، امریکی فوج کا یہ اقدام کافی حیران کن ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس یونٹ کی بندش کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکی فوج ڈرون ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر دستبردار ہو رہی ہے، بلکہ یہ ممکنہ طور پر ایک وسیع تر تنظیم نو کا حصہ ہے جس کا مقصد فوجی وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں کہ آیا یہ فیصلہ بجٹ کی کمی کے باعث کیا گیا ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کارفرما ہے۔
فوجی ترجمان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس یونٹ کے ارکان کو جلد ہی ان کے روایتی یونٹس میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی سے یورپی اتحادیوں اور نیٹو کے ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس پر بھی دفاعی ماہرین اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا امریکی فوج ڈرون کے حوالے سے اپنی پالیسی میں مکمل تبدیلی لا رہی ہے یا پھر اسے کسی نئے اور زیادہ جدید ڈھانچے کے تحت دوبارہ شروع کیا جائے گا۔