LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی اور صحت کا مستقبل: طبی خدمات میں انقلاب یا طبقاتی تقسیم؟

News Image
مصنوعی ذہانت صحت کے شعبے میں طبی سہولیات کو عام آدمی تک پہنچانے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج اس ٹیکنالوجی کو طبقاتی تفریق کے بجائے عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنا ہے۔
جدید دور میں صحت کے شعبے کو مصنوعی ذہانت (AI) کے ساتھ جوڑنے پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی طبی سہولیات کو مزید محدود اور مہنگا بنا دے گی یا پھر اسے عام لوگوں کی پہنچ میں لا کر ایک نئی جمہوری فضا قائم کرے گی۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک کاروباری آلے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی سماجی ضرورت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو دنیا بھر میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ اس وقت دنیا کے کئی خطوں میں معیاری طبی مشورے اور تشخیص تک رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں اے آئی ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بحث کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت 'اکانومی کلاس' ادویات اور علاج متعارف کروا رہی ہے، جہاں صرف امیر طبقہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکے گا؟ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اعلیٰ معیار کی طبی مہارت کو صرف چند ہسپتالوں تک محدود رکھنے کے بجائے دور دراز علاقوں میں بسنے والے مریضوں تک پہنچایا جائے۔ اگر حکومتیں اور نجی ادارے درست حکمت عملی کے ساتھ کام کریں تو اے آئی تشخیص کے عمل کو تیز تر اور سستا بنا کر صحت کے نظام میں موجود خلیج کو کم کر سکتا ہے۔ یہ نہ صرف وقت کی بچت کا باعث بنے گا بلکہ انسانی غلطیوں کے امکانات کو بھی نمایاں طور پر کم کرے گا۔ تاہم، اس سفر میں ڈیٹا کی حفاظت، اخلاقیات اور انسانی ڈاکٹر کے کردار کا تحفظ بھی ازحد ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت کا مقصد کبھی بھی ڈاکٹر کی جگہ لینا نہیں، بلکہ ایک اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا ہونا چاہیے جو ڈاکٹر کو پیچیدہ معاملات پر بہتر توجہ دینے کا موقع فراہم کرے۔ جب ٹیکنالوجی کے ذریعے بنیادی ٹیسٹ اور تشخیص خودکار ہو جائیں گے تو طبی ماہرین اپنا وقت مریض کی دیکھ بھال اور علاج کے پیچیدہ فیصلوں پر صرف کر سکیں گے۔ آخر میں، یہ کہنا درست ہوگا کہ مصنوعی ذہانت ہیلتھ کیئر کے مستقبل کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ اس بات کا انحصار معاشرتی پالیسیوں پر ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے درست طریقے سے مربوط کیا گیا تو یہ طبی سہولیات کی فراہمی میں ایک نیا انقلاب برپا کر سکتی ہے، جس سے امیر و غریب کی تفریق کے بجائے طبی مہارت کی فراہمی ہر انسان کا بنیادی حق بن سکے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مناسب قانون سازی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔