Sports
یوفا کا فیفا ورلڈ کپ بائیکاٹ کا اعلان، سرمایہ کاری کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا
یوفا کے تمام پچپن رکن ممالک نے متفقہ طور پر فیفا کے اس متنازعہ منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے جس کے تحت مقابلوں میں حصص فروخت کیے جانے ہیں۔ اگر عالمی فٹ بال کونسل اپنے اس فیصلے پر اصرار کرتی ہے تو یورپی ممالک فیفا ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
عالمی فٹ بال کے ایوانوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب یورپی فٹ بال ایسوسی ایشنز یونین یعنی یوفا کے پچپن رکن ممالک نے فیفا کے متنازعہ سرمایہ کاری منصوبے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی کپ کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب فیفا کی جانب سے اپنے مختلف مقابلوں میں تجارتی حصص فروخت کرنے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے منصوبے پر غور کیا گیا۔ یورپی ممالک کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے فٹ بال کی روایات اور کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یوفا کے اراکین نے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا کہ کھیل کی خودمختاری اور شفافیت کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔ تمام پچپن ممالک نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر فیفا نے اپنی تجارتی پالیسیوں کو تبدیل نہیں کیا اور اپنے مجوزہ سرمایہ کاری منصوبے کو آگے بڑھایا، تو وہ آئندہ کے تمام بڑے ٹورنامنٹس خصوصاً فیفا ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کریں گے۔ اس بائیکاٹ کی دھمکی سے عالمی فٹ بال میں ایک بہت بڑا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ یورپی ٹیمیں عالمی فٹ بال کا سب سے اہم اور طاقتور حصہ ہیں۔ دوسری جانب، فیفا کی انتظامیہ اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے مشاورت کا عمل شروع کرنے کا سوچ رہی ہے تاکہ کھیل کو کسی بھی بڑے نقصان اور سیاسی تنازعے سے بچایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر آنے والے دنوں میں دونوں تنظیموں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ نہ نکالا گیا، تو فٹ بال کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا تنازعہ کھیلوں کے مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔