LIVE
Loading Breaking News...

جدید سرویلنس ٹیکنالوجی اور شہریوں کی پرائیویسی کے خطرات

News Image
موجودہ دور میں عوامی مقامات پر نصب نگرانی کے کیمروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو شہریوں کی پرائیویسی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ماہرین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا حکومتوں اور نجی اداروں کے ان نگرانی کے نظاموں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود ہے۔
مشہور فلسفی جان لاک کا ماننا تھا کہ حکومت کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان، مال اور آزادی کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ ان کی روزمرہ کی نقل و حرکت کا ریکارڈ مرتب کرنا۔ تاہم، اکیسویں صدی کے جدید دور میں یہ فلسفہ ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ آج ہر گلی، چوراہے اور عوامی مقام پر نصب سیکیورٹی کیمرے نہ صرف جرائم کی روک تھام کر رہے ہیں بلکہ یہ شہریوں کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیکل ترقی اس اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر کیمرے ہر کسی کو دیکھ رہے ہیں، تو آخر ان کیمروں اور ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر نظر رکھنے والا کون ہے؟ نارتھ کیرولائنا سمیت دنیا کے کئی حصوں میں نگرانی کے نظام (سرویلنس سسٹمز) کا دائرہ کار تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے انضمام نے اس نگرانی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب سوال صرف کیمرے کی موجودگی کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات کو کون استعمال کر رہا ہے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا قانونی ڈھانچہ موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی مناسب قانون سازی کے، یہ نگرانی کا نظام لوگوں کی آزادیِ رائے اور ان کی نجی زندگی میں مداخلت کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومتی سطح پر نگرانی کے ان نظاموں کو اکثر قومی سلامتی کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جمہوری اقدار کا تقاضا ہے کہ شفافیت کو ہر صورت میں ترجیح دی جائے۔ جب تک اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے سخت ضوابط اور احتسابی نظام تشکیل نہیں دیے جاتے، شہریوں کا اعتماد بحال کرنا مشکل ہوگا۔ یہ ضروری ہے کہ قانون ساز ادارے ایسے قوانین متعارف کرائیں جو عوام کی پرائیویسی کو یقینی بنائیں اور سرکاری اداروں کو ان کے اختیارات کے تجاوز سے روکیں۔ آخر میں، ٹیکنالوجی کا مقصد انسانی زندگی کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے ایک کھلی جیل میں تبدیل کرنا۔ شہریوں کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کا ڈیٹا کس طرح جمع کیا جا رہا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل دور میں آزادی اور سیکیورٹی کے مابین توازن قائم کرنا ہی ایک مہذب معاشرے کی اصل کامیابی ہے۔ اگر ہم نے آج نگرانی کے ان نظاموں پر سوال نہیں اٹھائے، تو مستقبل میں ہماری ذاتی آزادی صرف ایک کتابی تصور بن کر رہ جائے گی۔