LIVE
Loading Breaking News...

عالمی غذائی بحران: اناج کی بڑھتی قیمتیں اور معاشی خطرات

News Image
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب اناج کی قیمتوں میں متوقع اضافہ دنیا بھر میں غذائی بحران اور افراط زر کو ہوا دے سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسماتی تبدیلیوں اور سپلائی چین میں تعطل کے باعث آنے والے سالوں میں غذائی اجناس کی دستیابی مشکل ہو سکتی ہے۔
عالمی معیشت ایک اور بڑے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے، جہاں توانائی کے شعبے میں تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کے بعد اب اناج کی قیمتوں میں متوقع اضافے نے دنیا بھر کے ماہرین معاشیات کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق، غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف غریب ممالک بلکہ ترقی یافتہ معیشتوں کے لیے بھی افراط زر کی ایک نئی لہر کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ جے پی مورگن اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ ایک ایسی غذائی قلت کی طرف بڑھ رہی ہے جو آنے والے چند برسوں میں عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کرے گی۔ اس صورتحال کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں جن میں موسماتی تغیرات، خاص طور پر 'ایل نینو' کا اثر اور کھادوں کی عالمی سطح پر قلت شامل ہیں۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی کا خدشہ سرمایہ کاروں میں اضطراب پیدا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے اجناس کی منڈیوں میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔ جب سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور غذائی اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا براہ راست اثر عام شہریوں کے دسترخوان پر پڑتا ہے، جس سے 'امپورٹڈ انفلیشن' یا درآمدی افراط زر میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی ملک اپنی بنیادی خوراک کے لیے بین الاقوامی منڈی پر انحصار کرتا ہے اور وہاں قیمتیں بڑھنے سے مقامی منڈیوں میں مہنگائی کا طوفان آ جاتا ہے۔ مزید برآں، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہی تو 2027 تک عالمی سطح پر خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کھادوں کی قلت فصلوں کی پیداوار کو محدود کر رہی ہے، جس کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔Forbes اور دیگر مالیاتی تجزیاتی پلیٹ فارمز نے نشاندہی کی ہے کہ ہوٹلوں اور ریستورانوں کے مینیو تک پہنچنے سے پہلے ہی غذائی افراط زر کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں۔ عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو اب ہنگامی بنیادوں پر زرعی پیداوار کو بڑھانے اور سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر دنیا ایک ایسے معاشی بھنور میں پھنس سکتی ہے جہاں خوراک کی دستیابی امیر اور غریب دونوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جائے گی۔