World
انگلینڈ اور ویلز میں خشک سالی: وجوہات اور اثرات
انگلینڈ کے نصف سے زائد حصے اور پورے ویلز کو رواں ہفتے خشک سالی کا شکار قرار دے دیا گیا ہے جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ بارشوں کی کمی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس صورتحال کا بنیادی سبب بن رہے ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کے مطابق انگلینڈ کے نصف سے زائد حصے اور پورے ویلز کو اس ہفتے باضابطہ طور پر خشک سالی کا شکار قرار دے دیا گیا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اس نوعیت کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے جس نے ماحولیاتی ماہرین اور حکومتی اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ رواں سیزن میں معمول سے کم بارشوں اور شدید گرمی کی لہر نے آبی ذخائر کی سطح کو خطرناک حد تک گرا دیا ہے، جس سے نہ صرف روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ زراعت اور ماحولیات کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے برطانیہ کے ان علاقوں میں بارش کے روایتی پیٹرن میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے۔ ماضی میں جن علاقوں میں وافر مقدار میں بارشیں ہوتی تھیں، اب وہاں طویل خشک موسم اور گرمیوں میں شدید ہیٹ ویوز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں زمین کی نمی ختم ہو جاتی ہے اور دریاؤں، جھیلوں اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح انتہائی نچلی سطح پر آ جاتی ہے۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور غیر ضروری ضیاع سے گریز کریں۔ متعدد علاقوں میں پانی کی فراہمی پر پابندیاں بھی عائد کر دی گئی ہیں تاکہ آنے والے مہینوں کے لیے آبی ذخائر کو محفوظ بنایا جا سکے کسانوں اور زرعی ماہرین نے بھی فصلوں کی پیداوار میں کمی کے خدشات کا اظہار کیا ہے کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے آبپاشی کے نظام پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ اگر آنے والے ہفتوں میں خاطر خواہ بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ حکومت اس طویل مدتی چیلنج سے نمٹنے کے لیے نئے آبی منصوبوں اور انفراسٹرکچر کی بہتری پر غور کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بحرانوں سے بچا جا سکے۔