Politics
ٹرمپ کی نئی قومی سکیورٹی اور ٹیکنالوجی حکمت عملی کا جائزہ
صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایک نئی قومی سکیورٹی ٹیکنالوجی حکمت عملی متعارف کروا دی ہے جس کا مقصد عالمی سطح پر تکنیکی برتری کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے معاملے پر بھی امریکی پالیسی میں مسلسل تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے حال ہی میں اپنی نئی قومی سکیورٹی ٹیکنالوجی حکمت عملی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ حکمت عملی عالمی سطح پر بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظرنامے اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے تناظر میں مرتب کی گئی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کی طاقت کا دارومدار صرف روایتی عسکری قوت پر نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز پر ہوگا۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت، امریکہ اپنی تکنیکی سپلائی چین کو زیادہ محفوظ بنانے اور غیر ملکی انحصار کو کم کرنے کے لیے ترجیحی اقدامات کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد چین اور دیگر حریف ممالک کے ساتھ جاری تکنیکی مقابلے میں اپنی برتری کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، واشنگٹن میں ایران کے حوالے سے جاری پالیسی پر بھی بحث زوروں پر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے لیے مقرر کردہ اہداف اور جنگی حکمت عملی کے معیارات میں مسلسل تبدیلیوں نے بین الاقوامی مبصرین کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے نئے دباؤ کے حربے استعمال کر رہی ہے۔ ایران کے حوالے سے یہ بدلتے ہوئے اہداف دراصل اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو محفوظ بنانا اور ایرانی اثر و رسوخ کو عالمی سطح پر محدود کرنا ہے۔
نئی تکنیکی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کے ان دونوں پہلوؤں کا موازنہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک جامع 'نیو نیشنل سکیورٹی فریم ورک' پر کام کر رہی ہے۔ اس فریم ورک میں ٹیکنالوجی کو اب محض ایک صنعتی شعبہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ایک لازمی جزو سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں سخت ضوابط اور ایران جیسی ریاستوں کے خلاف مسلسل بدلتی ہوئی پالیسیاں آنے والے وقت میں عالمی تجارت اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کریں گی۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا بھر کے ممالک امریکی ٹیکنالوجی پالیسی کے ان نئے رجحانات پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور آیا یہ حکمت عملی واشنگٹن کو مطلوبہ نتائج فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔