LIVE
Loading Breaking News...

عالمی تیل بحران اور الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں تیزی

News Image
مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی میں تعطل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران نے پٹرولیم پر انحصار کم کرنے اور ماحول دوست گاڑیوں کی طرف منتقلی کو مزید تیز کر دیا ہے۔
عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں یعنی ای ویز (EVs) کی فروخت میں رواں سال غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس رجحان کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والا تعطل اور پچھلے چار سالوں کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوسرا بڑا عالمی صدمہ ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدگی اور بحران کے باعث دنیا بھر میں توانائی کے روایتی ذرائع غیر مستحکم ہو گئے ہیں، جس سے حکومتی سطح پر اور انفرادی طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی ناگزیر ہوتی جا رہی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے صارفین کا رجحان روایتی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں سے ہٹ کر مکمل طور پر بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ سال کے آغاز میں تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں جو ہوشربا اضافہ ہوا تھا، اس نے آٹو موبائل انڈسٹری کا رخ یکسر بدل ڈالا ہے۔ بڑی گاڑی ساز کمپنیاں بھی اب اپنی پیداوار کا زیادہ تر حصہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے وقف کر رہی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ اس بحران کی وجہ سے عالمی معیشت کو وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ صورتحال سبز توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے اہداف اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بچنے کے لیے عام صارف بھی اب الیکٹرک گاڑیوں کو ہی ترجیح دے رہا ہے، جس سے آنے والے برسوں میں اس صنعت کو مزید استحکام ملنے کی توقع ہے۔