LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ورک فورس کی تربیت: اہم سفارشات

News Image
اکنامک اسٹریٹجی ریویو کی حالیہ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کو محض ایک ٹیکنالوجی کے بجائے قومی ورک فورس کے چیلنج کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملازمین کو اے آئی کی مہارتوں کے حصول کے لیے تنہا چھوڑنے کے بجائے اداروں کو منظم تربیت فراہم کرنی چاہیے۔
مئی میں جاری ہونے والی اکنامک اسٹریٹجی ریویو (ESR) کی سفارشات نے دنیا بھر کے لیبر مارکیٹ اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس رپورٹ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (AI) کو محض ایک تکنیکی معاملہ سمجھنے کے بجائے اسے قومی ورک فورس کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مستقبل کے معاشی استحکام کے لیے مصنوعی ذہانت کی خواندگی کو قومی سطح پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کارکنوں پر یہ بوجھ ڈالنا کہ وہ خود سے اے آئی کے پیچیدہ ٹولز سیکھیں، ایک غیر منصفانہ اور ناممکن عمل ہے۔ صنعتی اور کاروباری حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا ملازمین کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اکثر کمپنیاں یہ توقع رکھتی ہیں کہ ان کا عملہ ازخود اے آئی ماڈلز اور خودکار سسٹمز کے استعمال میں مہارت حاصل کر لے گا۔ تاہم، ای ایس آر کی سفارشات کے مطابق، یہ حکمت عملی ناکام ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر کسی قوم کو ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے فائدہ اٹھانا ہے، تو اسے اپنے افرادی قوت کے لیے منظم تربیتی پروگرام مرتب کرنے ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت کی مہارتیں صرف انفرادی سیکھنے کا عمل نہیں ہیں، بلکہ یہ ادارہ جاتی ترقی کا حصہ ہونی چاہئیں۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ایسے تعلیمی مراکز اور ورکشاپس قائم کرنی چاہئیں جہاں ملازمین کو اے آئی کے اخلاقی اور عملی استعمال کی تربیت دی جائے۔ جب کارکنوں کو منظم طریقے سے اے آئی ٹولز فراہم کیے جائیں گے اور ان کی رہنمائی کی جائے گی، تب ہی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔ کارکنوں کو تنہا چھوڑ دینے سے نہ صرف عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے بلکہ کمپنی کی مجموعی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد انسانوں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ اگر پالیسی ساز اور ادارے اس نقطہ نظر کو اپنا لیں کہ اے آئی لٹریسی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، تو ہم معاشی ترقی کی نئی منازل طے کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ انفرادی کوششوں کے بجائے ایک مربوط قومی حکمت عملی کے ذریعے کارکنوں کو اس نئی ٹیکنالوجی کے دور کے لیے تیار کیا جائے تاکہ وہ مستقبل کے معاشی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔